دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 360 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 360

360 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری بگڑتی ہوئی صورت حال کو سنبھالنے کے لئے نورانی صاحب نے کہا کہ جو فتوے جماعت کے وفد نے یہاں پر سنائے ہیں ان کی Original کتابیں یہاں پیش کرنی چاہئیں۔اس کے بغیر ان کا بیان مکمل نہیں ہونا چاہئے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ وہ کل یہاں پر رکھد یئے جائیں یا لائبریری میں رکھ دیئے جائیں۔اب یہ صورت حال بھی نورانی صاحب کے لئے نا قابل قبول تھی کیونکہ اس طرح ان فتووں کی نمائش ہی لگ جانی تھی۔اس پر کچھ دیر بعد نورانی صاحب نے ایک اور نکتہ اُٹھایا اور وہ یہ تھا کہ جو کفر کے فتووں کے حوالے جماعت کا وفد پیش کرے وہ اس صورت میں قبول کئے جائیں جب کہ دیوبند یا فرنگی محل وغیرہ کے Original اصل مہروں والے فتوے پیش کئے جائیں ورنہ اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ وفد نے گواہی غلط دی ہے۔اب یہ ایک بالکل بچگانہ فرمائش تھی۔جماعت احمدیہ نے مختلف فرقوں کی معروف کتب سے حوالے پیش کئے تھے اور کہیں نہیں کہا تھا کہ ہم دیوبند، فرنگی محل یا ملتان کے کسی مدرسہ کے Original مہر والے فتووں سے پڑھ رہے ہیں۔اور یہ فتوے جماعتِ احمدیہ کے پاس کیوں ہونے تھے۔یہ فتوے تو ان مولوی حضرات یا ان کے مدرسوں کے پاس ہی ہوئے تھے۔ہاں اگر کسی کو شک تھا کہ کتب کے حوالے غلط دیئے گئے تھے تو وہ متعلقہ کتاب دیکھنے کا مطالبہ پیش کر سکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا جا رہا تھا کیونکہ یہ سب فتاوی صحیح تھے۔اگر یہی کلیہ تسلیم کیا جاتا تو جماعت احمد یہ بھی یہ مطالبہ کر سکتی تھی کہ ہمارا بھی صرف وہی حوالہ صحیح سمجھا جائے گا جس پر جماعت کی مجلس افتاء کی مہر ہو ، جماعت کی کسی کتاب میں درج کوئی فتویٰ ہم تسلیم نہیں کریں گے۔ابھی اس پر بحث چل رہی تھی کہ سپیکر صاحب نے کارروائی لکھنے والوں کو جانے کا کہا اور اس روز کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔