دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 358 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 358

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 358 میں یہ افغانستان کے مسلمانوں کے لئے دارالحرب تھا۔ایک زمانہ میں ترکوں کے لئے دارالحرب ہوا۔مگر اب یہ تمام مسلمان حکومتوں کے لئے دارالصلح ہے۔“ (سود۔مصنفہ ابوالاعلیٰ مودودی صاحب۔ناشر اسلامک پبلیکیشنز لاہور۔ص349) اگر یہی کلیہ تسلیم کر لیا جائے کہ جن مسلمانوں نے ہندوستان میں انگریز حکومت سے تعاون کیا یا تعاون کا اعلان کیا انہیں ملتِ اسلامیہ سے علیحدہ متصور کرنا چاہئے تو اس نامعقول کلیہ کی زد میں سرسید احمد خان ، سید احمد شہید ،مولوی اسماعیل شہید، غیر احمدی علماء اور پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ کے تمام مسلمان لیڈر آجائیں گے۔نہ صرف یہ بلکہ ہندوستان کے مسلمانوں کی بھاری اکثریت کے متعلق بھی یہی کہنا پڑے گا کہ انہیں ملت اسلامیہ سے علیحدہ سمجھنا چاہئے۔لیکن ماضی کے ان حقائق پر نظر ڈالے بغیر مخالفین جماعت مسلسل یہ اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ نے انگریز حکومت سے تعاون کیوں کیا اور ان کی تعریف کیوں کی ؟ یہ اعتراض جماعت احمدیہ پر نہیں بلکہ خود اعتراض کرنے والوں پر ہونا چاہیے تھا۔بلکہ جب ہم نے صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب سے انٹرویو کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انگریز حکومت سے تعاون کے بارے میں جو جوابات دیئے گئے تھے ممبرانِ اسمبلی کی ان سے تسلی نہیں ہوئی تھی۔ہم نے جو حوالے درج کئے ہیں ان کے مطابق تو یہ سوال اٹھتا ہی نہیں ہے کجا یہ کہ اس پر تسلی ہونے یا نہ ہونے کی بحث کی جائے۔۹/ اگست کے دن کے آخری حصہ کی کارروائی کا کچھ حصہ تو پہلے ہی بیان ہو چکا ہے۔اور اس روز کے آخری اجلاس کا بیشتر حصہ بھی اس امر پر بحث کرتے ہوئے گزرا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مخالفین کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کئے ہیں کہ نہیں۔اس دن کی کارروائی کے آخر میں اٹارنی جنرل صاحب نے اکمل صاحب کے ایک شعر کا سہارا لے کر یہ اعتراض اُٹھانے کی کوشش کی کہ جماعت احمدیہ کے عقائد کے