دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 356
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جماعت احمدیہ کے قیام سے بہت قبل W۔W۔Hunter نے اپنی کتاب کے اپنڈیکس میں مکہ مکرمہ مر سے کرده حنفی ، شافعی اور مالکی مسلک کے فتاویٰ درج کئے ہیں کہ انگریزوں کے تحت ہندوستان دارالاسلام ہے۔356 جاری ملاحظہ کیجئے: The Indian Musalmans, by WW Hunter, published by Sang e Meel (Publications 1999p216-217 جب ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے سیاسی مفادات کی حفاظت کے لیے مسلم لیگ قائم کی تو اس کے اغراض و مقاصد بھی طے کیے گئے۔ان میں سے پہلا مقصد یہ تھا:۔To promote among Indian Muslims feelings of loyalty towards the British Government, and to remove any misconception that may arise as to the intentions of the government with regard to any of its measures۔ہندوستان کے مسلمانوں میں برٹش گورنمنٹ کی بابت وفاداری کے احساس کو بڑھانا اور گورنمنٹ کے کسی قدم کے بارے میں اگر کوئی غلط فہمی پیدا ہو تو اسے دور کرنا۔(80) اور جب پنجاب میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا تو اس کے بنیادی اغراض و مقاصد طے کیے گئے۔ان چار مقاصد میں سے ایک یہ تھا:۔مسلمانوں کے درمیان برٹش گورنمنٹ کی نسبت سچی وفاداری کا خیال قائم رکھنا اور بڑھانا۔“ (81) واضح رہے کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کہلانے کی مستحق تھی تو وہ مسلم لیگ تھی اور اس کے اغراض و مقاصد میں انگریزوں کی حکومت کے