دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 355 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 355

355 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس وقت ہندوستان اور عرب کے تمام مسالک کے علماء بڑھ چڑھ کر انگریز حکومت کے تحت ہندوستان کو عین دار الاسلام قرار دے رہے تھے اور اس طرح برطانوی حکومت کی بہت اہم مدد کر رہے تھے۔برطانوی حکومت وو کے تحت ہندوستان کے بارے میں بریلوی مسلک کے مجدد احمد رضا خان صاحب بریلوی کا فتویٰ ہے:۔ہندوستان دار لحرب نہیں دارالاسلام ہے" ( عرفانِ شریعت حصہ اوّل مرتب کرده مولوی عرفان علی الناشر سنی دارالاشاعت علویہ رضویہ لائلپور ص7) شیعہ مسلک کے مشہور عالم سید علی حائری صاحب جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں بھی پیش پیش رہے تھے ، سکھوں کے دور کا ذکر کر کے کہتے ہیں:۔مگر یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج ہم ہندوستان میں ایسی مبارک مہربان سلطنت کے تحت عدل و انصاف سے ہیں کہ وہ ان تمام عیوب اور خود غرضیوں سے پاک ہے جس کو مذاہب کے اختلاف سے کوئی بھی اعتراض نہیں ہے اور جس کا قانون ہے کہ سب مذاہب آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض کو ادا کریں۔لہذا اس سلطنت (برطانیہ عظمی ) کے وجود و بقا و قیام و دوام کے لیے تمام احباب دعا کریں اور اس کے ایثار کا جو وہ اہلِ اسلام اور خاص کر شیعوں کی تربیت میں بے دریغ مرعی رکھتی ہے۔ہمیشہ صدق دل سے شکر گزار ہوں۔“ موعظه تقیه ، تقریر سید علی حائری ، ناشر کتب خانہ حسینیہ ص66) صرف ہندوستان کے علماء ہی نہیں بلکہ مکہ مکرمہ کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے علماء بھی یہی فتاویٰ دے رہے تھے انگریز حکومت کے تحت ہندوستان مین دارالاسلام ہے اور انگریز حکام بڑے فخر سے اپنی میں یہ فتاویٰ درج کرتے تھے کہ یہ فتاویٰ مسلمان علماء نے ہماری حکومت کے بارے میں دیئے ہیں۔چنانچہ