دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 357
357 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری بارے میں کن نظریات کا اظہار کیا گیا تھا یہ مندرجہ بالا حوالے سے واضح ہے۔اور جب وائسرائے ہند لارڈ منٹو کی خدمت میں پنجاب مسلم لیگ نے ایڈریس پیش کیا تو اس میں ان الفاظ میں مسلم لیگ کی پالیسی کا اعادہ کیا گیا:۔”ہماری جماعت انگریزی تاج سے مستقل محبت و وفاداری رکھتی ہے۔۔۔۔ہم اس موقع کو زور کے ساتھ یہ عرض کیے بغیر گزر جانے دینا نہیں چاہتے کہ بعض انقلاب پسندوں نے جو انار کزم کا رویہ اختیار کیا ہے۔اس سے نہ صرف مسلمانانِ پنجاب کو بلکہ کل ہندوستان کی اسلامی جماعت کو دلی نفرت ہے۔“ (82) کیا:۔اور 1911ء میں پنجاب مسلم لیگ نے جو ایڈریس لارڈ ہارڈنگ وائسرائے ہند کو پیش کیا اس میں یہ اقرار گزشتہ چند سال میں ہندوستان کا پولیٹیکل مطلع اس صوبہ میں سٹڈیشن اور بے چینی کے بادلوں سے مکدر ہو رہا تھا۔مسلمانوں نے کبھی ایک لمحہ کے لیے اپنی برٹش گورنمنٹ کی مستحکم عقیدت میں پس و پیش نہیں کیا۔“(83) اور 1912ء میں جب پنجاب مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس ہوا تو اس کے خطبہ صدارت کا آغاز برٹش گورنمنٹ کی گوناں گوں برکات کے ذکر سے ہوا۔(84) خود جماعت اسلامی کے بانی مودودی صاحب کا فتویٰ اپنے دور کے متعلق یہ تھا کہ اب انگریز حکومت کے تحت ہندوستان دارالحرب نہیں ہے۔وہ لکھتے ہیں:۔جس زمانہ میں شاہ عبدالعزیز صاحب نے جواز سود کا فتویٰ دیا تھا ، اس زمانہ میں یہ مسلمان ہند کے لئے دارالحرب تھا ، اس لئے کہ انگریزی قوم مسلمانوں کی حکومت کو مٹانے کے لئے جنگ کر رہی تھی۔جب اس کا استیلاء مکمل ہو گیا اور مسلمانانِ ہند نے اس کی غلامی قبول کر لی تو یہ ان کے لئے دارالحرب نہیں رہا۔ایک وقت