دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 347 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 347

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 347 بھی ہیں اس لئے پھر یہ مفروضہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ کے علاوہ پھر کوئی نبی نہیں آیا اور اس طرح اس بناء پر تمام انبیاء کی نبوت کی نفی کرنی پڑے گی۔اب ان چند مثالوں سے ظاہر ہے کہ پہلی صدی سے لے کر موجودہ دور تک سلف صالحین اور بعد کے الله علماء کی ایک بڑی تعداد اس بات کی قائل رہی ہے کہ آنحضرت صلی ا کرم کی بعثت کے بعد آنحضرت صلی علم کی غلامی میں امتی نبی آنے کا دروازہ بند نہیں ہوا اور خاتم النبیین کے الفاظ کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ آپ کے بعد اب کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آ سکتا۔اب پوری قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی کے سپرد تو یہ کام ہوا تھا کہ یہ تعین کرے کہ جو شخص آنحضرت صلی اللی علم کو آخری نبی نہیں سمجھتا اس کا اسلام میں کیا Status ہے۔اب اگر وہ یہ بحث شروع کرتے تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ یہ کارروائی اپنے موضوع پر آگئی ہے۔جیسا کہ حضرت خلیفة المسیح الثالث نے فرمایا تھا کہ پرانے بزرگوں اور بعد کے علماء نے اتنے تواتر سے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ آنحضرت صلی علیکم کے بعد امتی نبی کا مقام حاصل کرنا مقام خاتم النبیین کے منافی نہیں ہے کہ ان حوالوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔تو چاہئے تو یہ تھا کہ قومی اسمبلی بھی مشتاق ہوتی کہ ہاں ہمیں بھی وہ حوالے سنائیں ورنہ ہم ابھی تک تو یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ ظلم کے بعد جو کسی قسم کی نبوت کے دروازے کو کھلا ہوا سمجھے وہ فوراً دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔سوالات اُٹھانے والے اپنی اس کمزوری کو جانتے تھے۔عقل کا تقاضا یہ تھا کہ اگر اس بنیاد پر کسی کو غیر مسلم کہا جاتا تو اس کافر گری کے عمل کی زد میں سلف صالحین کی ایک بڑی تعداد آجاتی۔چنانچہ اس صورت حال میں ہم اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ آخر کیوں ایک بار پھر اٹارنی جنرل صاحب نے موضوع سے گریز کیا اور دوسرے موضوع پر سوالات شروع کر دیئے۔بہر حال اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے اپنی طرف سے ایک دلیل پیش فرمائی۔اس دلیل کی حالت ملاحظہ ہو۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تحریر کو پڑھا:۔