دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 32
32 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ہوتے گئے۔لیکن اس بات نے مجھے بہت مایوس کیا کہ ایک صاحب جو نہ صرف آئین ساز اسمبلی کے رکن تھے بلکہ آئین کو مرتب کرنے والی کمیٹی کے ایک اہم رکن بھی تھے اور ایک پارٹی کے سیکریٹری جنرل بھی تھے انہوں نے آئین سازی کے عمل کے دوران پر انے آئین کو پڑھا بھی نہیں تھا۔آئین میں ایک دلچسپ تضاد یہ بھی تھا کہ آئین کی رو سے وزراء، ممبران اسمبلی و سینٹ اور سپیکر اور ڈپٹی سپیکرز کے لئے یہ ضروری نہیں تھا کہ وہ مسلمان ہوں یعنی ایک غیر مسلم بھی یہ عہدے حاصل کر سکتا تھا اور غیر مسلم وزراء بنتے رہے ہیں اور اسمبلی کے ممبر بنتے رہے ہیں۔لیکن ان کے حلف نامے میں یہ عبارت شامل تھی۔That I will strive to preserve the Islamic ideology which is the basis for the creation of Pakistan یعنی اگر ایک غیر مسلم ان عہدوں پر فائز ہو جائے تو وہ یہ حلف اُٹھائے گا کہ وہ غیر مسلم ہونے کے باوجود نظریہ اسلامی کی حفاظت کے لئے کوشاں رہے گا۔ہم نے پروفیسر غفور صاحب سے یہ سوال کیا کہ ایک غیر مسلم یہ حلف کیسے اُٹھا سکتا ہے کہ وہ اسلامک آئیڈیالوجی کے تحفظ کے لئے کوشاں رہے گا۔تو پہلے انہوں نے آئین کی کاپی میں متعلقہ حصہ پڑھا اور پھر کہا کہ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ میں مسلمان ہوں۔یہ آئیڈیالوجی کے نقطہ نظر سے ہے۔جب آئین میں یہ لکھا ہے کہ ملک میں کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں بنے گا تو غیر مسلم کو بھی یہ حلف اُٹھانا پڑے گا۔بہر حال یہ واضح تھا کہ اب احمدیوں کے خلاف ایک سازش تیار کی جارہی ہے۔اس مرحلہ کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے 1985ء میں فرمایا:۔"۔۔۔۔۔۔1974 ء کے واقعات کی بنیاد در اصل پاکستان کے 1973ء کے آئین میں رکھ دی گئی تھی۔چنانچہ آئین میں بعض فقرات یا دفعات شامل کر دی گئی تھیں تاکہ اس کے نتیجہ میں ذہن اس طرف متوجہ رہیں اور جماعت احمدیہ کو باقی پاکستانی شہریوں سے ایک الگ اور نسبتاً ادنی حیثیت دی جائے۔میں نے 1973ء کے آئین کے نفاذ کے وقت اس خطرہ کو بھانپتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی خدمت میں عرض کیا اور آپ کو اس وقت توجہ دلائی۔بعد ازاں جس طرح بھی ہو سکا جماعت مختلف سطح پر اس مخالفانہ رویہ کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن ان کوششوں کے دوران یہ