دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 31 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 31

31 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری allegiance to Pakistan, that I will preserve protect and defend the constitution, and that I will do right to all manner of people according to law without fear or favor, affection or ill-will۔اسی طرح ایوب خان صاحب کے دور میں جو آئین بنایا گیا تھا اس کے حلف ناموں میں بھی مذہبی عقائد کا کوئی ذکر نہیں تھا۔یہ پہلی مرتبہ تھا کہ پاکستان کے آئین میں اس قسم کا حلف نامہ شامل کیا گیا تھا۔ڈاکٹر مبشر حسن صاحب اس وقت بھٹو صاحب کی کابینہ کے ایک اہم رکن تھے اور وہ اس وقت اس کمیٹی کے رکن بھی مقرر ہوئے تھے جس نے آئین بنانے کا کام کیا تھا۔ان سے جب ہم نے یہ سوال کیا کہ حلف ناموں میں ختم نبوت کا حلف نامہ ڈالنے کی کیا وجہ تھی تو ان کا کہنا تھا کہ گو کہ اس کارروائی کے دوران انہوں نے اس کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا کیونکہ وہاں جس طرح بحث ہوتی تھی وہ وقت کو ضائع کرنا تھا کیونکہ آئین نے جس طرح بننا تھا وہ تو اسی طرح بنا لیکن اس کی واضح وجہ یہی تھی کہ بھٹو صاحب کی پہلی کوشش یہ تھی کہ آئین منظور ہو اور پھر یہ خواہش تھی کہ متفقہ آئین منظور ہو۔اس غرض کے لئے انہیں مذہبی عناصر کو جو Concessions دینے پڑے ان میں یہ بھی شامل تھا۔اور جب ہم نے عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب سے جو کہ آئین بنانے والی کمیٹی کے سربراہ تھے اس بابت سوال پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ پہلے تو صدر کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ وہ مسلمان ہو لیکن جب آئین کا سارا ڈھانچہ بنا اور یہ واضح ہوا کہ سارے اختیارات تو وزیر اعظم کے پاس ہوں گے تو مذہبی جماعتوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ وزیر اعظم کے لئے بھی مسلمان ہونا ضروری قرار دیا جائے اور اس عہدہ کے لئے ختم نبوت کا حلف نامہ اُٹھانا بھی ضروری ہو۔جب ہم نے پروفیسر غفور صاحب جو اس وقت جماعت اسلامی کے سیکریٹری تھے اور آئین تیار کرنے والی کمیٹی کے رکن تھے ، یہ سوال کیا کہ ان حلف ناموں میں ختم نبوت کا حلف نامہ شامل کرنے کی تجویز کس طرف سے آئی تھی جبکہ پہلے جو آئین بنے تھے ان میں اس کا ذکر نہیں تھا؟ تو ان کا جواب تھا کہ پاکستان کے سابقہ آئینوں کو تو میں نے نہیں پڑھا لیکن 1973ء کا آئین بنتے وقت عدلیہ کی آزادی اور صوبائی خود مختاری کے مسئلے پر تو بحث ہوئی تھی لیکن اس حلف نامے کے موضوع پر تو کوئی بحث ہوئی ہی نہیں تھی۔اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی جماعتوں نے ان حلف ناموں میں ختم نبوت کا حلف نامہ شامل کرنے کے لئے کوئی خاص دباؤ نہیں ڈالا تھا بلکہ ان کی شمولیت ایک خاص ماسٹر پلان کا حصہ تھی جس کے باقی اجزاء بعد میں ظاہر