دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 33
33 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری احساس بڑی شدت سے پیدا ہوا کہ یہ صرف یہاں کی حکومت نہیں کروارہی بلکہ یہ ایک لمبے منصوبے کی کڑی ہے اور اس معاملہ نے آگے بڑھنا ہے۔بہر حال 1974ء میں ہمارے خدشات پوری طرح کھل کر سامنے آگئے۔“ (خطبات طاہر جلد 4 ص54) لیکن بہت سے تکلیف دہ واقعات سے گزر کر ملک کو ایک دستور مل رہا تھا۔جماعت احمدیہ نے اس موقع پر کوئی مسئلہ نہیں پیدا کیا بلکہ ملکی مفادات کی خاطر اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ بالآخر ملک کو ایک دستور مل گیا ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث " نے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔گزشتہ ربع صدی میں پاکستان کو بہت سی پریشانیوں میں سے گزرنا پڑا۔قیام پاکستان کے ایک سال بعد بانی پاکستان قائد اعظم کی وفات ہو گئی۔ان کے ذہن میں پاکستان کے لئے جو دستور تھا وہ قوم کو نہ دے سکے۔پھر ملک کو بعض دوسری پریشانیوں کا منہ دیکھنا پڑا۔پھر مارشل لاء لگا جس کے متعلق بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کی ذمہ داری فوج پر ہے اور یہ بات ایک حد تک درست بھی ہے لیکن اس کی اصل ذمہ داری تو ان لوگوں پر عاید ہوتی ہے جنہوں نے اس قسم کے حالات پید اکر دیئے کہ فوج کو مارشل لاء لگانا پڑا۔بہر حال مارشل لاء کا زمانہ بھی پریشانیوں پر منتج ہوا۔اس کی تفصیل میں جانے کا نہ یہ وقت ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے۔مارشل لاء کے زمانہ میں بھی کچھ قوانین تو ہوتے ہیں جن کے تحت حکومت کی جاتی ہے۔تاہم ان قوانین کو قوم کا دستور نہ کہا جاتا ہے نہ سمجھا جاتا ہے اور نہ حقیقہ ایسا ہوتا ہے۔اس لحاظ سے قوم گو یا دستور کے میدان میں پچھلے پچھیں سال بھٹکتی رہی ہے چنانچہ ایک لمبے عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں کہ قوم کو ایک دستور مل گیا۔ہم خوش ہیں اور ہمارے دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہیں کہ ہماری اس سر زمین کو جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے منتخب فرمایا ہے اس میں بسنے والی اس عظیم قوم کو اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی کہ وہ اپنے لئے ایک دستور بنائے۔“ (2) 1973ء کے آئین میں جو حلف نامے تجویز کئے گئے تھے ان میں عقائد کا تذکرہ اور ختم نبوت کا حلف مولویوں اور مولوی ذہنیت رکھنے والوں کو خوش کرنے کے لئے رکھا گیا تھا۔اور پیپلز پارٹی کے قائدین بڑے فخر سے کہہ رہے تھے کہ ہم نے ملک کو ایک اسلامی آئین دیا ہے۔چنانچہ پیپلز پارٹی کے ایک لیڈر افتخار تاری صاحب نے آئین کی منظوری کے بعد بڑے فخر سے یہ بیان دیا:۔