دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 332 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 332

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 332 9 اگست کی کارروائی 9 اگست کی کارروائی کے آغاز میں مولوی ظفر انصاری صاحب نے جو تبصرہ فرمایا وہ صرف یہ ظاہر کر رہا تھا کہ ان پر دلائل کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔الفضل 13 / نومبر 1946ء کا جو حوالہ ہم درج کر چکے ہیں اس کے مندرجات بالکل واضح ہیں لیکن ابھی بھی ان صاحب کا خیال تھا کہ اس کا وہ حصہ پڑھا گیا جس سے جماعت احمدیہ کا اپنا کام بنتا تھا۔اس لئے وہ کہہ رہے تھے کہ یہ تمام اخبار ریکارڈ میں داخل کیا جائے۔کارروائی شروع ہوئی تو ممبران کی ایک اور گھبراہٹ سامنے آئی۔احمد رضا قصوری صاحب نے سپیکر صاحب سے درخواست کی کہ جب احمدیوں کا وفد ہال سے چلا جاتا ہے تو ہم آپس میں بات کرتے ہیں۔اگر یہ ریکارڈ کل کلاں کسی کے ہاتھ لگ گیا تو اس پر کوئی اعتراض کر سکتا ہے کہ جب گواہ یہاں پر موجود نہیں ہوتے تھے تو چیئر مین اور ممبران جو کہ حج کی حیثیت سے بیٹھے ہوئے تھے اس بارے میں تبادلہ خیالات کرتے تھے۔اس لئے میری درخواست ہے کہ جب ایسا ہو رہا ہو تو پلگ نکال دیا جائے یعنی اس گفتگو کی ریکارڈنگ نہ کی جائے۔اس پر سپیکر صاحب نے کہا ہم یہاں پر عدالت کی حیثیت سے نہیں بلکہ سپیشل کمیٹی کی حیثیت سے بیٹھے ہیں۔اس کے کچھ دیر بعد ایک اور ممبر چوہدری جہانگیر صاحب نے اپنی اس پریشانی کا اظہار کیا۔”مسٹر چیئر مین سرامیں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ Delegation کے ممبر بڑے Brief Cases لے اور Bags لے کر اندر آ جاتے ہیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ جناب والا کہ وہ اسمبلی کی ہاؤس کی کارروائی کو ٹیپ ریکارڈ کر رہے ہوں۔اس کے متعلق ذرا تسلی کر لیجئے۔“ اگر اُس وقت اس کمیٹی میں سب کچھ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو رہا تھا تو ممبران کو اتنی پریشانی نہیں ہونی چاہیے تھی کہ یہ سب کچھ منظر عام پر آگیا تو کیا ہو گا۔