دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 333
333 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس کے بعد جب سوالات شروع ہوئے تو اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر وہی پرانے سوالات دہرانے شروع کیے کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی تھے ؟ یا امتی نبی تھے ؟ کیا آپ کے بعد بھی کوئی نبی آ سکتا ہے؟ پھر آخری نبی کسے کہا جائے گا؟ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان سوالات کے جواب میں انہیں جماعت احمدیہ کا موقف بتا دیا گیا تھا پھر انہیں بار بار دہرانے سے ان کا مقصد کیا تھا؟ ان سوالات کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ آنے والے مسیح کو رسول اللہ صلی الم نے مسلم کی ایک حدیث میں چار مرتبہ نبی اللہ فرمایا ہے اور امت محمدیہ آج تک مسیح نبی اللہ کے آنے پر عقیدہ رکھتی آئی ہے۔اور سب اس بات کو تسلیم کرتے آئے ہیں کہ ایک نبی نے آنا ہے۔اور حضور نے جماعت احمدیہ کا عقیدہ ان الفاظ میں بیان فرمایا:۔وو۔۔۔ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ تیرہ سو سال تک ہمارے سلف صالحین جو عقیدہ رکھتے آئے ہیں وہ درست ہے،اور ان کے اس عقیدہ کے مطابق آنے والے کی خبر دی گئی تھی، سارے فرقے اس سے اتفاق رکھتے ہیں، وہ آگیا تو یہ جماعت احمدیہ کا نیا عقیدہ نہیں۔پہلے دن سے اس عقیدہ پر امت محمدیہ اور اس کے سارے فرقے جو ہیں وہ ہیں کہ اس امت میں ایک نبی پیدا ہو گا۔“ متفق حضور نے اب واضح الفاظ میں یہ حقیقت تمام قومی اسمبلی کے سامنے بیان فرما دی تھی کہ تمام فرقے ایک ایسے وجود کا انتظار کرتے رہے ہیں جس نے مقام نبوت پر سرفراز ہونا تھا۔فرق صرف یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے عقیدہ کے مطابق جس وجود نے آنا تھا وہ آگیا۔اگر یہ عقیدہ ختم نبوت کے منافی ہے پھر اس کلیہ کی رو سے کوئی فرقہ بھی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا۔اگر یہ حقیقت نہیں تھی تو فوراً ہر طرف سے یہ اعتراضات اُٹھنے چاہئیں تھے کہ یہ بالکل غلط ہے۔ہمارے فرقہ کا یہ عقیدہ ہر گز نہیں ہے اور فوراً اپنے اس دعوے کے حق