دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 30 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 30

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 30 چاہتے ہیں اور وزیر اعظم کی آمریت نہیں چاہتے۔بھٹو صاحب نے غلام مصطفے کھر صاحب کے ذریعہ اپوزیشن کی جماعتوں خاص طور پر جماعت اسلامی سے رابطہ کیا اور ان سب نے آئین کی حمایت کا اعلان کر دیا۔(Zulfikar Ali Bhutto and Pakistan 1967-1977, published by Oxford University Press Karachi 1997 page178) جیسا کہ دستور ہے اس آئین میں بھی مختلف عہدوں کے لئے حلف نامے شامل تھے جنہیں اُٹھا کر کوئی شخص ان عہدوں پر کام شروع کر سکتا ہے۔اس آئین میں صدر اور وزیر اعظم کے لیے جو حلف نامے تجویز کئے گئے تھے ان کے الفاظ سے یہ بات ظاہر ہو جاتی تھی کہ یہ حلف نامے تجویز کرنے والوں نے اپنی طرف سے یہ کوشش کی ہے کہ احمدیوں کو نشانہ بنایا جائے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کوشش کی ہے کہ کوئی احمدی ان عہدوں پر مقرر نہ ہو سکے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ جماعتِ احمدیہ کو سیاسی عہدوں کی بندر بانٹ سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن ان حلف ناموں کو تجویز کرنے والوں نے اپنی دانست میں احمدیوں کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کی تھی۔صدر اور وزیر اعظم دونوں کے حلف ناموں میں یہ الفاظ شامل تھے I ,۔۔۔۔do solemnly swear that I am a Muslim and believe in the unity and oneness of Almighty Allah, the books of Allah, the Holy Quran being the last of them, the prophet hood of Muhammad (peace be upon him) as the last of the prophets and that there can be no prophet after him, the day of judgment,and all the That I will strive to requirement and teachings of the Holy Quran۔۔۔۔۔۔۔۔preserve the Islamic ideology which is the basis for the creation of Pakistan۔اس سے پہلے بھی ملک میں دو آئین رائج ہوئے تھے اور ان میں بھی صدر اور وزیر اعظم کے لئے حلف نامے مقرر کئے گئے تھے۔لیکن ان میں مذہبی عقائد کے متعلق کوئی ایسی عبارات شامل نہیں کی گئی تھیں۔1956ء کے آئین میں صدر کے حلف نامے کے الفاظ یہ تھے I۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔do solemnly swear that I will faithfully discharge the duties of the office of president of Pakistan according to law, that I will bear true faith and