دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 29
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 29 29 ٹھائے۔بھٹو صاحب کا مقصد یہ تھا کہ ان مولوی صاحب کو اس طرح ذلیل بھی کیا جائے جو کہ ان مولوی صاحب نے بخوشی منظور کر لیا۔حقیقت یہ ہے کہ دستور اصولوں پر بنائے جاتے ہیں۔خواہ اس کے لئے اختلاف رائے کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔اگر اس طرح سر براہ حکومت اور سربراہِ مملکت نوٹوں کو زمین پر پھینک کر رشوتیں دے رہا ہو اور ممبرانِ اسمبلی گھٹنوں کے بل رینگ رینگ کر یہ نوٹ اُٹھا رہے ہوں تو کیا اس سے قوم میں اتحاد پید اہو جائے گا۔کیا ایسا آئین جو کہ اعلیٰ اقدار کی طرف راہنمائی کرے اس طرز پر بنایا جاتا ہے۔کوئی ذی ہوش اس کا جواب اثبات میں نہیں دے سکتا۔اس واقعہ سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آئین بناتے ہوئے سب سے پہلے اصولوں کی قربانی دی گئی تھی۔جب اصول ہی قربان کر دیئے گئے تو پھر محض متفقہ آئین کے نعرے لگانے سے کیا حاصل کیا جاسکتا ہے۔(نوٹ: اس کتاب کے بعض حصوں کے لئے ہم نے اس وقت کی بعض اہم سیاسی شخصیات سے انٹر ویولئے۔ان میں مکرم ڈاکٹر مبشر حسن صاحب جو بھٹو صاحب کی کابینہ میں وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل رہے، مکرم عبد الحفیظ صاحب پیر زادہ جو بھٹو صاحب کی کابینہ میں وزیر رہے اور 1974ء میں وزیر قانون تھے ، مکرم صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب جو کہ 1974ء میں قومی اسمبلی کے سپیکر تھے ، مکرم پروفیسر غفور احمد صاحب جو کہ قومی اسمبلی کے ممبر اور جماعتِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل تھے ، سابق جج پنجاب ہائی کورٹ مکرم جسٹس صمدانی صاحب جنہیں 1974ء میں انکوائری ٹریبونل میں مقرر کیا گیا تھا اور مکرم ٹی ایچ ہاشمی صاحب جو کہ پاکستان کے سیکریٹری اوقاف تھے اور 1974ء میں رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں حکومت پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے شامل ہوئے تھے اور مکرم معراج محمد خان صاحب جو کہ ایک زمانے میں بھٹو صاحب کے خاص رفیق اور ان کی کابینہ میں بھی رہے ، شامل ہیں۔ان انٹرویوز کا تحریری اور آڈیو یا ویڈیو ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے۔سوائے مکرم عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب کے انٹرویو کے جنہوں نے اگلے روز ریکارڈ کروانے کا فرمایا اور پھر معذرت کر لی۔اکثر انٹر ویوز لینے والی ٹیم میں خاکسار کے علاوہ مکرم مظفر احمد صاحب ڈوگر اور مرزا عدیل احمد صاحب شامل تھے) کمیٹی نے کام شروع کیا اور لمبی بحث و تمحیث کے بعد 12 / اپریل 1973ء کو قومی اسمبلی نے نئے آئین کی منظوری دے دی۔بھٹو صاحب کے دور میں وفاقی وزیر اور ان کے قریبی معتمد مکرم رفیع رضا صاحب اپنی کتاب میں تحریر کرتے ہیں کہ آئین کی منظوری سے چند روز قبل تک اپوزیشن راہنماؤں نے اس عمل کا بائیکاٹ کیا ہوا تھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ وہ پارلیمانی نظام