دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 310
310 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اٹارنی جنرل صاحب نے کرکٹ کا بہت دلچسپ محاورہ استعمال کیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ میں بڑے ادب سے عرض کروں گا کہ تشریحات تو مختلف ہو سکتی ہیں لیکن ممبران مجھے کمزور گیندیں نہ مہیا کریں جن پر یہ چوکے چھکے لگائیں۔اب اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے؟ صرف یہی کہ خود سوالات کرنے والا اس بات کا شکوہ کر رہا ہے کہ اسے کمزور سوالات مہیا کئے جا رہے ہیں۔اس پر سپیکر صاحب نے پھر ممبران سے صحیح طرح حوالہ جات پیش کرنے کی درخواست کی اور کہا:۔وو۔۔۔۔۔و و و و questionsہمارےapprove ہوئے ہیں۔ان میں کئی حوالہ جات نکلتے ہی نہیں ہیں۔“ پھر ایک اور ممبر اسمبلی سردار مولا بخش سومرو صاحب نے کہا کہ کوئی جواب پانچ یا دس منٹ سے زیادہ کا نہیں ہونا چاہئے اور جب کتب یہاں پر موجود ہیں تو انہیں اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ وہ بعد میں اپنی کتب سے پڑھ کر جواب دیں گے۔سومرو صاحب کی یادداشت کچھ زیادہ مضبوط نہیں تھی۔وہ بھول گئے تھے کہ پہلے روز ہی اٹارنی جنرل صاحب نے حضور سے کہا تھا کہ اگر وہ کسی سوال کا جواب دینے کے لیے وقت لینا چاہیں تو کمیٹی سے اس کا وقت لے سکتے ہیں۔اس پر سپیکر صاحب نے سومرو صاحب کو یاد دلایا کہ سوال سوال میں فرق ہوتا ہے۔بعض سوالات کے جواب میں وضاحتیں ہوتی ہیں اور بعض سوالات کا جواب تحقیق کے بعد دینا ہوتا ہے۔ویسے یہ کوئی ایسا دقیق نکتہ نہیں تھا کہ اس کو دریافت کرنے کے لیے سومرو صاحب کو سپیکر صاحب کی مدد کی ضرورت ہوتی۔یہ بات کارروائی کے سرسری مطالعہ ہی سے نظر آجاتی ہے کہ دس میں سے آٹھ سوالات کا جواب تو صرف ایک دو منٹ میں نہایت اختصار سے دیا گیا تھا اور شاید ہی اب تک کی کارروائی میں کسی سوال کا جواب دس منٹ کا ہو۔پھر عبد العزیز بھٹی صاحب نے کہا کہ جہاں جواب Irrelevant ہو وہاں