دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 309
309 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس کے جواب میں سپیکر صاحب نے یہ تبصرہ کیا کہ بہت سی غیر متعلقہ باتیں آرہی ہیں۔اب یہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر غیر متعلقہ باتیں کیوں آ رہی تھیں ؟ وجہ یہ تھی کہ کارروائی کو تیسرا دن گزر رہا تھا اور کمیٹی سوال پر سوال کئے جا رہی تھی لیکن ابھی تک اس موضوع پر سوال شروع ہی نہیں ہوئے تھے جس کے لیے اس کمیٹی کو قائم کیا گیا تھا۔پھر نورانی صاحب نے فرمایا:۔”Explanation قرآن اور حدیث کی روشنی میں مختصر explanation۔“ یہ جملہ پڑھ کر تو احساس ہوتا ہے کہ شاید نورانی صاحب ابھی ابھی گہری نیند سے بیدار ہوئے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ اب تک کمیٹی نے بیسیوں سوالات اور تبصرے لکھ کر اٹارنی جنرل صاحب کو دیئے تھے لیکن کسی ایک میں بھی کسی آیت کریمہ یا حدیث شریف کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا گیا تھا۔البتہ جو جوابات حضور نے دیئے تھے اور جو جوابات اس کے بعد بھی دیئے گئے ان میں سے بہت سے جوابات میں قرآنی آیات اور احادیث کو بطور دلیل کے پیش کیا گیا تھا۔پھر ایک اور ممبر محمد حنیف خان صاحب نے یہ گلہ کیا ”وہ question کرنا شروع کر دیتا ہے۔“ سب اپنے گلے شکوے کر رہے تھے لیکن سب سے عجیب پوزیشن اٹارنی جنرل صاحب کی تھی۔بیشتر سوالات تو مولوی حضرات لکھ کر دیتے تھے لیکن انہیں اٹارنی جنرل صاحب کو پڑھنا ہوتا تھا۔اور اگر سوال لا یعنی ہو یا حوالہ ہی غلط ہو تو خفت بھی انہیں اٹھانی پڑتی تھی۔اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ اب اس صورت حال سے عاجز آ رہے تھے۔چنانچہ اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا:۔Sir, I will respectfully submit that explanations are different; you may or may not accept; but I request the honourable members not to supply me loose balls to score boundaries۔