دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 311 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 311

311 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری سپیکر صاحب اپنا اختیار استعمال کر کے اس کو بند کریں۔مولوی ظفر انصاری صاحب نے اصرار کیا کہ انہیں لکھی ہوئی چیز پڑھنے کا زیادہ موقع نہ دیا جائے۔احمد رضا قصوری صاحب نے یہ انکشاف کیا کہ گواہ بعض جوابات کو بار بار دہرا رہا ہے اور بعض کتابوں کے حوالے بھی بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ہم یہاں اس لیے نہیں بیٹھے کہ ہمیں بتایا جائے کہ احمدیہ عقائد کیا ہیں اور نہ ہی وہ ہمیں تبلیغ کر رہے ہیں۔اب یہ اعتراض معقولیت سے قطعاً عاری تھا کیونکہ حقیقت یہ نہیں تھی کہ کچھ جوابات دہرائے جا رہے تھے بلکہ حقیقت یہ تھی کہ اٹارنی جنرل صاحب بعض سوالات کو بار بار دہرا رہے تھے اور ظاہر ہے کہ جب کوئی سوال دہرایا جائے گا تو جواب دینے والے کو جواب بھی دہرانا پڑے گا۔یہ حقیقت اتنی واضح تھی کہ خود وفاقی وزیر عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب کو بھی اس کی نشاندہی کرنی پڑی کہ اٹارنی جنرل صاحب کو بعض سوالات اس لیے دہرانے پڑتے ہیں تا کہ جوابات میں تضاد پیدا ہو۔اس کے بعد جماعت احمدیہ کا وفد داخل ہوا۔اب جو کارروائی شروع ہوئی تو جوابات میں تو کیا تضاد پیدا ہونا تھا ، خدا جانے کیا ہوا کہ اٹارنی جنرل صاحب نے جلد جلد کچھ بے ربط سوالات کرنے شروع کیے۔انہوں نے ایک حوالہ پڑھ کر یہ سوال اُٹھایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں میں حضرت مریم کا کیا مقام بیان ہوا ہے ابھی اس پر تین چار منٹ ہی گزرے ہوں گے اور ابھی اس مسئلہ پر بات صحیح سے شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے اچانک یہ سوال اُٹھا دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو ملعون لکھا ہے۔ابھی لائبریرین کو حوالہ پکڑانے کا کہا ہی تھا کہ انہوں نے کہا کہ میں دو چار اکٹھے پڑھ دیتا ہوں اور فوراً ہی اس مسئلہ پر آ گئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رشید احمد گنگوہی کو شیطان گمراہ اور ملعون لکھا ہے۔ابھی اس کا جواب نہیں آیا تھا کہ سپیکر صاحب نے کہا کہ میں یہ تجویز دوں گا کہ اٹارنی جنرل صاحب ایک وقت میں ایک سوال کریں لیکن وہ ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ سب