دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 295
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 295 ”جناب والا ! میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے جو تحریری بیان دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے اس کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے۔یہ محضر نامے میں کافی طویل جواب دے چکے ہیں۔اس لئے جہاں تک ہو سکے ہم ان کو Discourage کریں تا کہ یہ لامتناہی سلسلہ ختم ہو جائے۔اب اس کی ضرورت نہیں۔“ ان الفاظ پر زیادہ تبصرہ کی ضرورت نہیں۔جماعت احمدیہ نے ایک مختصر سا محضر نامہ پیش کیا تھا، اسے کسی طرح بھی طویل نہیں کہا جا سکتا۔اب حضرت عیسی علیہ السلام کی گستاخی کے معاملہ میں جب باقاعدہ جماعت کا موقف پڑھا گیا تو اس کا کوئی معقول جواب معترضین کے پاس نہیں تھا۔5 / اگست کو کارروائی شروع ہوتی ہے اور /7/ اگست کو مولوی صاحب کو خیال آنے لگ جاتے ہیں کہ یہ تو بہت طویل ہو گئی ہے حالانکہ اس کے بعد بھی کئی روز کارروائی جاری رہی۔اصل بات تو یہ تھی کہ وہ جوابات سے خفت محسوس کر رہے تھے اور اپنی جان چھڑانا چاہتے تھے۔لیکن اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ گواہ زیادہ سے زیادہ بولے کیونکہ جتنا وہ زیادہ بولے گا اتنا ہی اس کے بیان میں Contradiction آئے گی۔ان کی خوش فہمی کس حد تک بجا تھی۔میرا نہیں خیال کہ اس کارروائی کو پڑھنے والے کو اس بارے میں خود فیصلہ کرنے میں کوئی دشواری پیش آئے گی۔