دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 294
294 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یعنی اس کی باری بھی آئے گی۔اس کو بھی اٹھائیں گے، صحیح وقت پر اس کو بھی اُٹھایا جائے گا۔اس سوال اور اس کے جواب سے مندرجہ ذیل امور واضح ہیں 1)۔تین روز کے سوالات کے بعد بھی ابھی تک اصل موضوع کا ذکر تک نہیں کیا گیا تھا۔2)۔اصل موضوع سے گریز اس وقت کیا جا رہا تھا جب کہ اس موضوع پر جماعت احمدیہ کا موقف محضر نامہ کی صورت میں اسمبلی کے اراکین کے سامنے آچکا تھا اور وہ اس کی مضبوط یا بر عکس ہونے کے بارے میں کوئی رائے قائم کر سکتے تھے۔ظاہر ہے کہ اگر یہ ممبران جماعت احمدیہ کے موقف کو مضبوط خیال کر رہے تھے تو اس صورت میں ان کا رحجان یہی ہو سکتا تھا کہ اس سے گریز کیا جائے۔3)۔یہ گریز ممبران کی رضامندی سے کیا جا رہا تھا کیونکہ سوالات تو ممبران کی طرف سے آ رہے تھے اور ابھی کچھ ہی دیر قبل انہوں نے اٹارنی جنرل صاحب کے طریقہ کار پر بھر پور اعتماد کیا تھا۔ہم بعد میں جائزہ لیں گے کہ اس روز کے بعد بھی یہ کارروائی اپنے اصل موضوع پر نہیں آئی اور اس سے عمد اگریز کا سلسلہ جاری رہا۔اب اسمبلی میں ان ممبران کی پریشانی بڑھ چکی تھی جو جماعت احمدیہ سے بغض رکھتے تھے۔کارروائی ان کی امیدوں کے بر عکس جا رہی تھی۔ان کی نفسیاتی الجھن یہ تھی کہ وہ اعتراض تو کر بیٹھتے تھے لیکن جب جواب شروع ہوتا تو انہیں اپنی خفت سامنے نظر آرہی ہوتی تھی۔چنانچہ کارروائی کے اختتام کے قریب جب حضور اور جماعت کا وفد باہر جا چکا تھا مولوی ظفر احمد انصاری صاحب نے سپیکر سے درخواست کی:۔