دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 22 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 22

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 22 کسی بھی پارٹی کو اکثریت حاصل نہ ہو رہی ہو ایسی جماعتیں بھی بہت اہمیت حاصل کر جاتی ہیں جنہوں نے تقریبا ایک چوتھائی ووٹ حاصل کیسے ہوں (22)۔بہر حال ان قیاس آرائیوں کے در میان عام انتخابات کا دن آگیا۔17 دسمبر کی رات کو ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی۔کچھ نتائج بھی سامنے آنے شروع ہوئے۔ووٹنگ شروع ہوتے ہی تین باتیں بہت واضح نظر آرہی تھیں۔پہلی تو یہ کہ عوامی لیگ مشرقی پاکستان کی تقریبا تمام نشستیں حاصل کر رہی تھی۔مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کو اکثر نشستوں پر برتری حاصل ہو رہی تھی۔اور نام نہاد مذہبی جماعتوں کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ان کے متعلق تمام اندازے غلط ثابت ہو رہے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی کے قائد مودودی صاحب کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ان کی پارٹی کو اتنی مکمل شکست سے دو چار ہونا پڑا ہے۔ابھی نصف نشستوں کے نتائج سامنے آئے تھے کہ مودودی صاحب نے اپنی پارٹی کے کارکنان سے اپیل کی کہ پولنگ کے موقع پر جہاں جہاں بھی بے ایمانیاں یا بے قاعد گیاں ہوئی ہیں وہاں سے شہادتیں حاصل کر کے جلد از جلد جماعتِ اسلامی کے مرکزی دفتر بھجوائی جائیں تاکہ حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے (23)۔لیکن جلد ہی ان پر یہ حقیقت منکشف ہو گئی کہ ان کی پارٹی کی شکست کی وجہ کوئی بے قاعد گی یا بے ایمانی نہیں بلکہ لوگوں کی حمایت سے محروم ہونا ہے۔اس لیے جلد ہی تحقیقات کا مطالبہ ترک کر دیا گیا۔پورے ملک میں تین سو نشستوں پر انتخابات ہوئے تھے۔ان میں سے 160 پر عوامی لیگ نے کامیابی حاصل کی۔ان تمام امید واروں کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔مشرقی پاکستان کی نشستوں میں سے صرف دو ایسی تھیں جن پر عوامی لیگ کے امیدوار کامیاب نہیں ہوئے۔مغربی پاکستان کی 138 نشستوں میں سے 81 پر پاکستان پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔پیپلز پارٹی نے مشرقی پاکستان سے کوئی امید وار کھڑا نہیں کیا تھا۔جماعت اسلامی کو صرف چار نشستوں پر اور جمعیت العلماء اسلام ، جمعیت العلماء پاکستان اور کو نسل مسلم لیگ کو سات سات نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔۔ان سیاسی پارٹیوں کے لیے جو مذہبی جماعتیں کہلاتی ہیں اور جماعت احمدیہ کی مخالفت میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہیں یہ نتائج بہت ہی مایوس کن تھے۔ایک تو یہ کہ ان کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کے تمام دعووں کے بر عکس یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ یہ پارٹیاں پاکستان کے عوام کی حمایت سے محروم ہیں۔مغربی پاکستان میں بھی جماعت اسلامی کو صرف 4 فیصد ووٹ مل سکے۔اور سیاسی غلبہ اور اقتدار حاصل کرنے کا ایک اور موقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔اور یہ بات ان کے غیظ و غضب