دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 23 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 23

23 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری میں اضافہ کر رہی تھی کہ احمدی اکثر نشستوں پر جس پارٹی کی حمایت کر رہے تھے اس نے مغربی پاکستان میں اکثر نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔جماعت احمدیہ کے لیے تو اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ ایک سیاسی جماعت نے کامیابی حاصل کی ہے لیکن جماعت کی مخالف مذہبی جماعتوں کا نظریہ تھا کہ مذہبی مقاصد سیاسی تسلط کے بغیر حاصل نہیں کیے جاسکتے۔انتخابات میں خفت اُٹھانے کے بعد چٹان میں شورش کا شمیری کا یہ اداریہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس وقت جماعت اسلامی کا حامی طبقہ کن خیالات میں غلطاں تھا۔اس اداریہ کا عنوان تھا " اپنی غلطیوں سے عبرت پکڑو۔اس میں شورش کا شمیری صاحب نے لکھا:۔"اگر واقعہ محض یہ ہوتا کہ انتخاب میں رجعت پسندوں کو شکست ہو گئی ہے اور ان کی جگہ ترقی پسند آگئے ہیں یا کلاہ کامیابی کاسہ لیسوں کے سر سے اتار کر انقلابیوں کے سر پر رکھ دی گئی ہے ، تو ہم کھلے دل سے خیر مقدم کرتے لیکن پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر جو لوگ پنجاب اور سندھ سے منتخب ہوئے ہیں۔ان کی واضح اکثریت (90 فیصد ) ان افراد پر مشتمل ہے جو خاتینا خلقتاً انقلاب پسند نہیں اور نہ ان سے توقع کی جاسکتی ہے کہ اپنی بڑی بڑی جاگیروں اور اپنے شاندار ماضی کے باعث غرباء کے ہمدرد ہو سکتے اور اس ملک کی تقدیر بدل سکتے۔۔۔۔دو گروہوں نے پیپلز پارٹی کے الیکشن کو منظم کیا۔اوالا وہ عناصر جنہیں حادثاتی سوشلسٹ کہہ لیجئے اس عصر نے اپنے صبح و شام اس غرض سے وقف کر دیے، ان میں آر گنائزر وہ لوگ تھے وہ اپنی جیت صرف اس میں سمجھتے تھے کہ سوشلزم کا لفظ رواج پا رہا ہے اور پرانی قدریں ٹوٹ رہی ہیں۔یہ لوگ بالطبع مذہب سے متنفر ہیں۔ان کے علاوہ جن دو فرقوں نے پیپلز پارٹی کی پشت پناہی کی ان میں ایک فرقہ تو مسلمانوں کا فرقہ ہی نہیں اور وہ مسلمانوں سے انتقام لے رہا ہے وہ ہے قادیانی ! جس تندہی سے قادیانی امت کی عورتوں مردوں اور بچوں نے پیپلز پارٹی کے لیے کام کیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔لاہور میں طفیل محمد اور جاوید اقبال کے خلاف قادیانی ہر چیز داؤ پر لگائے بیٹھے تھے۔پسرور کا وہ حلقہ جہاں سے کوثر نیازی چنا گیا ہے تمام تر مرزائیوں کے ہاتھ میں تھا۔وہ کوثر نیازی کو ووٹ نہیں دے رہے تھے بغض کو ووٹ دے رہے تھے۔وہ ہر شخص سے انتقام لے رہے تھے جو اسلام کے نام پر کھڑا اور ان کا مذہب مخالف تھا۔انھیں کسی حال میں بھی کسی جمعیت العلماء، میاں ممتاز دولتانہ ،نوابزادہ نصر اللہ خان اور ابو الاعلیٰ مودودی کا امید وار گوارا نہ تھا۔۔۔“ (24)