دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 21
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 21 24 می الفین کی خوش فہمیاں جماعت کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کو آخر تک بہت سی امیدیں تھیں کہ انتخابات میں انہی کا پلہ بھاری رہے گا۔کو نسل مسلم لیگ کے نائب صدر نے ایک جلسہ میں یہ دعویٰ کیا کہ اگر پیپلز پارٹی کا کوئی امید وار زرِ ضمانت بچانے میں کامیاب ہو گیا تو وہ عملی سیاست سے مستعفی ہو جائیں گے (18) اور اس کے لیڈر یہ اعلان کر رہے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر جداگانہ انتخابات کا نظام لائیں گے ، یعنی مذہبی اقلیتوں کو انتخابات میں عام نشستوں سے بھی کھڑا ہونے کی اجازت نہیں ہو گی ، ان کی نشستیں علیحدہ ہوں گی تا کہ وہ ملکی سیاست کے دھارے سے علیحدہ ہی رہیں (19)۔الیکشن میں ایک ماہ سے بھی کم رہ گیا تھا اور جماعت احمدیہ کی اشد مخالف جماعت ، جمعیت العلماء پاکستان کو یہ امیدیں لگی ہوئی تھیں کہ وہ اپنی روحانیت کے بل بوتے پر پارلیمنٹ میں پہنچ جائیں گے۔چنانچہ ان کے صدر خواجہ قمر الدین سیالوی نے ایک جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم روحانیت کے بل بوتے پر انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گے۔اور یہ روحانیت ہمیں ورثہ میں ملی ہے۔اور مزید کہا کہ ہماری جماعت ایسا اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتی ہے جو خلافت راشدہ کا نمونہ ہو (19)۔(شاید اپنی روحانیت پر انحصار کا یہ نتیجہ تھا کہ اس جماعت کو انتخابات میں شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا)۔جماعت اسلامی بھی ایک بہت بڑی کامیابی کے خواب دیکھ رہی تھی۔چنانچہ اس کے لیڈر جلسوں میں دعوے کر رہے تھے کہ پیپلز پارٹی ملک کی بدلتی ہوئی صورتِ حال میں اب نا قابلِ ذکر ہو چکی ہے۔اور ان کی کسی بھی سیٹ پر کامیابی مشکوک ہے۔اور آئندہ انتخابات میں جماعت اسلامی یقینا بر سر اقتدار آجائے گی (20)۔جماعت اسلامی کو مشرقی پاکستان میں بھی خاطر خواہ کامیابی کی امیدیں تھیں۔بعد میں جب حمودالرحمن کمیشن کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ عوامی لیگ کے قائد مجیب الرحمن صاحب نے اس وقت جماعت اسلامی اور دولتانہ صاحب کی کو نسل لیگ کو انتخابی مفاہمت کی پیشکش کی تھی جس کی رو سے کچھ سیٹوں پر ان جماعتوں کے امیدواروں کے مقابل پر عوامی لیگ اپنے امیدوار نہ کھڑے کرنے کے لیے تیار تھی لیکن ان جماعتوں نے یہ پیشکش اس بنیاد پر مستر د کر دی کہ عوامی لیگ انہیں جتنی نشستیں دینے کے لیے تیار تھی جماعت اسلامی اور دولتانہ صاحب کی کو نسل لیگ کو اس سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی امید تھی۔لیکن آخر نتیجہ یہ نکلا کہ یہ جماعتیں مشرقی پاکستان سے ایک بھی نشست حاصل نہ کر سکیں (21)۔اخبار نوائے وقت نے انتخابات سے چند روز قبل ایک جائزہ شائع کیا جس کے مطابق 37 فیصد ووٹر پیپلز پارٹی کے حق میں تھے۔28 فیصد ووٹر جماعتِ اسلامی کے حق میں اور 26 فیصد دولتانہ صاحب کی کونسل مسلم لیگ کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ایسی صورت میں جبکہ