دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 224 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 224

224 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری صاحب اور ممبرانِ اسمبلی خود اصل موضوع کو Avoid اور Side track کر رہے تھے۔اس کے بعد پروفیسر غفور صاحب نے اپنی بات کے حق میں کوئی دلیل پیش کرنے کی بجائے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے ڈنمارک کا جو واقعہ بیان کیا ہے وہ بالکل غلط ہے۔کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا اور عجلت میں پروفیسر غفور صاحب یہاں تک کہہ ڈنمارک کا واقعہ مجھے معلوم ہے کہ بالکل غلط ہے۔“ حقیقت یہ ہے کہ حضور نے یہ بیان فرمایا تھا کہ ڈنمارک میں ایک مسلمان کا اچانک انتقال ہو گیا تھا۔اس موقع پر سوائے احمدیوں کے کوئی اور جنازہ پڑھنے والا موجود نہیں تھا لیکن احمدیوں نے غلطی کی اور اس صورت حال میں یہ جنازہ نہیں پڑھا۔جب حضور کے علم میں یہ واقعہ آیا تو اس پر حضور نے اظہار ناراضنگی فرمایا کہ اس خاص صورت میں یہ جنازہ پڑھنا چاہیے تھا۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ پروفیسر غفور صاحب کو کیسے یہ علم ہو سکتا ہے کہ حضور نے کب ، کس احمدی سے اظہار ناراضگی فرمایا کہ نہیں۔عقل ان کے اس دعوے کو قبول نہیں کر پروفیسر غفور صاحب اپنی بات کے حق میں وہ یہ دلیل لائے کہ ڈنمارک میں احمدیوں کی نسبت دوسرے مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے بلکہ وہ تو جوش میں یہ کہہ گئے کہ ڈنمارک میں دوسرے مسلمان بے حساب تعداد میں ہیں۔اب یہ سوچنے والی بات ہے کہ نہ یہ بیان کیا گیا تھا اور نہ ہی انہوں نے یہ سوال اُٹھایا تھا کہ یہ واقعہ کب ہوا تھا ، کہاں پر ہوا تھا یا اس کی دیگر تفصیلات کیا تھیں۔یہ سب کچھ جانے بغیر وہ کس طرح کہہ سکتے تھے یہ واقعہ ہوا ہی نہیں تھا۔کیا ڈنمارک میں ہونے والا ہر واقعہ ان کے علم میں آتا تھا اور یہ بھی کوئی دلیل نہیں کہ ڈنمارک میں غیر احمدی مسلمانوں کی تعداد احمدیوں سے زیادہ ہے۔ڈنمارک میں اب بھی احمدیوں اور غیر