دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 223 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 223

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 223 یعنی ہم وقفہ کر دیتے ہیں اور بارہ بجے کارروائی دوبارہ شروع ہو گی۔پھر جماعت کا وفد رخصت ہوا۔اس کے بعد کئی ممبران اسمبلی کے شکووں کا سلسلہ شروع ہوا۔جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور صاحب کھڑے ہوئے اور یہ اعتراض کیا کہ یہ (یعنی جماعت کا وفد ) سوالات کو Avoid کرتے ہیں اور Side Track کرتے ہیں۔جب کوئی سوال پوچھا جاتا ہے تو بہت سے پوائنٹ (Point) بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ جب کوئی سوال اُٹھتا تھا تو جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت خلیفة المسیح الثالث اپنا موقف بیان فرماتے تھے۔کسی ایک مقام پر بھی غیر متعلقہ بات نہیں پیش کی گئی تھی۔اگر یہ سوال اُٹھایا جائے اور بار بار اُٹھایا جائے کہ احمدی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ ان کی نماز جنازہ کیوں نہیں پڑھتے احمدی لڑکیاں غیر احمدی لڑکوں سے شادی کیوں نہیں کرتیں؟ تو اگر اس کے جواب میں غیر احمدی علماء کے فتاویٰ جو ان فرقوں سے تعلق رکھتے تھے جن سے تعلق رکھنے والے ممبران یہ اعتراضات اُٹھا رہے تھے ، پیش کیے جائیں جنہوں نے دوسرے فرقوں کو مسلمان سمجھنے پر بھی کفر کا فتویٰ لگایا ہے ان کے ساتھ شادی کرنا تو در کنار ان سے سلام کرنے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔ان کی نماز جنازہ میں شرکت کو قطعاً حرام قرار دیا ہے۔دوسرے فرقہ سے شادی کو زنا قرار دیا ہے، کوئی بھی ذی ہوش اس بیان کو غیر متعلقہ نہیں قرار دے سکتا۔سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اس پس منظر میں احمدیوں پر اعتراض ایک بے معنی بات نظر آتی ہے۔موضوع کے مطابق حوالہ جات پیش کئے جارہے تھے۔ان کو کسی طرح بھی Avoid کرنا اور Side Track کرنا نہیں کہا جا سکتا۔یہ تلملاہٹ اس لئے ظاہر ہو رہی تھی کہ ان علماء کو اور دوسرے ممبران کو آئینہ دیکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ہاں یہ سوال ضرور اُٹھتا ہے کہ اصل موضوع سے گریز کیا جا رہا تھا جب کہ ممبران محضر نامہ پڑھ چکے تھے تو یہ ہمت کیوں نہیں ہو رہی تھی کہ زیر بحث موضوع کے متعلق سوالات کیے جائیں۔اٹارنی جنرل