دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 225
225 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری احمدی مسلمانوں دونوں کی تعداد بہت کم ہے اور کئی مقامات پر ان میں سے کوئی بھی نہیں رہتا اور ایسا واقعہ ہونا کسی طور پر بھی نا ممکن نہیں کہلا سکتا۔اس پر اٹارنی جنرل نے پروفیسر غفور صاحب کی اس بات سے اتفاق کیا کہ ان کے سوالات کو Avoid کیا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مرحلہ پر اس وفد کو کچھ کہنے سے روکا گیا تو انہیں یہ عذر مل جائے گا کہ اسمبلی نے ان کو صحیح طرح سنا ہی نہیں۔اٹارنی جنرل صاحب نے بھی فوراً کہا Again and again he avoided the reply because he has got no reply۔پڑھنے والے خود یہ بات محسوس کر سکتے ہیں کہ خود اٹارنی جنرل صاحب اور سپیشل کمیٹی کے اراکین سپیشل کمیٹی کے سامنے پیش کئے گئے اصل موضوع پر آنے سے کترا رہے تھے۔اور غیر متعلقہ سوالات کر کے وقت گزار رہے تھے۔جو سوالات پوچھے گئے تھے حضرت خلیفة المسیح الثالث" نے ان کے بارے میں جماعت کا موقف بیان فرمایا تھا لیکن اگر اس قسم کے ناقابلِ فہم سوال جماعت کے وفد کئے جائیں کہ جب دوسرے فرقوں کے علماء نے ایک دوسرے کو کافر اور مرتد قرار دیا تو اس کا کیا مطلب تھا؟ تو ظاہر ہے کہ جماعت کا وفد اس کا جواب کیسے دے سکتا ہے۔جن مسالک کی طرف سے یہ فتاویٰ جاری ہوئے تھے،ان کے جید علماء سامنے بیٹھے تھے ، ان سے دریافت کرنا چاہیے تھا۔ایک اور ممبر مولوی نعمت اللہ صاحب نے یہ سوال اُٹھایا کہ اس بات کا صحیح جواب نہیں دیا گیا کہ چوہدری ظفر اللہ خان نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا۔یہ بات بھی قابلِ حیرت ہے کہ آج مولویوں کے گروہ کی طرف سے یہ سوال اُٹھایا جارہا تھا کہ کتنا بڑا ظلم ہو گیا کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا۔انہی مولویوں نے تو قائد اعظم کو کافر اعظم کا نام دیا تھا اور جب عدالتی