دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 222
222 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جن مختلف فرقوں سے تعلق رکھتے تھے ان کے علماء نے ایک دوسرے کو کافر مرتد اور بے دین قرار دیا ہے۔اور ان کے ساتھ نکاح کرنے یا ان کے پیچھے نماز پڑھنے یا ان کا جنازہ پڑھنے سے سختی سے منع کیا ہے اور اس سیشن کے آخر میں جب آئینہ دیکھنا پڑا کہ پورے ملک میں اس وقت احمدیوں کو شہید کیا جا رہا تھا، ان پر ہر قسم کے مظالم کئے جارہے تھے تو یہ صورت حال جماعت احمدیہ کے مخالفین کے لئے نا قابل برداشت ہو گئی۔ان کو نظر آرہا تھا کہ وہ دلائل سے کامیابی نہیں حاصل کر سکتے۔وہ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ احمدیوں پر ہونے والے مظالم اس طرح سامنے آئیں۔آئینہ دیکھنے کی ہمت نہیں تھی۔سب سے پہلے چوہدری جہانگیر علی صاحب کھڑے ہوئے اور کہا:۔Mr۔Chairman Sir, may I draw your attention? No discussion should take place between question and their answers۔اس مبہم جملے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ صاحب اب گبھراہٹ محسوس کر رہے تھے۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ سلسلہ مزید چلے۔غالباً اٹارنی جنرل صاحب بھی منتظر تھے کہ کوئی مداخلت کر کے سوال و جواب کے سلسلے کو روکے۔انہوں نے فوراً کہا:۔Shall we adjourn? Yes۔we adjourn to meet again at 12 یعنی کیا ہم کار روائی کو روک دیں؟ سپیکر صاحب نے فرمایا