دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 221 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 221

221 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری حضور : نہیں تیرہ بچوں کو ضربات خفیفہ۔کیا اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سینکڑوں مکانوں اور دوکانوں کو جلا دیا۔یحیی بختیار نہیں جی بالکل نہیں I agree with you they should be punishedاس کا سوال نہیں ہے۔اس مرحلہ پر ہونے والی گفتگو درج کر دی گئی ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب میں حقائق کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں تھا۔وہ یہ فرما رہے تھے کہ ربوہ کے سٹیشن کے واقعہ کی کسی نے مذمت نہیں کی تھی۔بالکل خلاف واقعہ بیان تھا۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے تو اس واقعہ سے اگلے خطبہ جمعہ میں ہی حضور نے اس کی مذمت فرمائی تھی اور ان نوجوانوں کی حرکت کو خلاف تعلیمات سلسلہ قرار دیا تھا اور پورے ملک کے سیاستدانوں اور مولویوں نے تو اس واقعہ کو مبالغہ کی انتہا کرتے ہوئے بڑھا چڑھا کر بیان کیا تھا اور جماعت احمدیہ کے خلاف ہر قسم کی زہر فشانی کی تھی۔اخبارات ان بیانات سے بھرے پڑے تھے اور ان حقائق کے باوجود اٹارنی جنرل صاحب فرما رہے تھے کہ ربوہ میں ہونے والے واقعہ کو کسی نے Condemn ہی نہیں کیا اور جیسا کہ حضور نے فرمایا کہ کیا تیرہ لڑکوں کو لگنے والی خفیف ضربوں کا یہ نتیجہ نکلنا چاہیے تھا کہ کئی احمدیوں کو شہید کر دیا جائے، سینکڑوں مکانوں اور دوکانوں کو لوٹ لیا جائے یا جلا دیا جائے۔وہ تہ پہلے یہ طے ہو چکا تھا کہ جو بھی سوال کرنے ہوں وہ یا تو پہلے اٹارنی جنرل یا سوالات کیلئے بنائی گئی کمیٹی کے سپرد کئے جائیں گے یا پھر دورانِ کارروائی کاغذ پر لکھ کر اٹارنی جنرل صاحب کے حوالہ کئے جائیں گے تا کہ سوال کریں لیکن اس مرحلہ پر جماعت کے مخالف مذہبی جماعتوں کے لیے یہ صورتِ حال برداشت سے باہر ہو رہی تھی کیونکہ کارروائی کی نسج ان کی امیدوں کے بر عکس جا رہی تھی۔وہ یہ سوال اُٹھا رہے تھے کہ احمدی غیر احمدیوں کی نماز جنازہ کیوں نہیں پڑھتے یا ان سے شادیاں کیوں نہیں کرتے لیکن اب ایسے حوالے سامنے پیش کئے جا رہے تھے جن سے ہوتا واضح طور پر یہ معلوم ہو تا تھا کہ اعتراض کرنے والے ممبران اسمبلی