دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 212
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 212 جو شخص اللہ جل شانہ کے سوا علم غیب کسی دوسرے کا ثابت کرے اور اللہ تعالی کے برابر کسی دوسرے کا علم جانے وہ بے شک کافر ہے۔اس کی اعانت اس سے میل جول محبت و مودت سب حرام ہیں۔“ یہ فتویٰ رشیدیہ میں رشید احمد صاحب گنگوہی کا ہے جو ان کے مرشد ہیں۔میں ایک ایک فتوے کو صرف بتا رہا ہوں تا کہ معاملہ صاف کر سکوں۔پرویزیوں اور چکڑالویوں کے متعلق نماز پڑھنے کے سلسلہ میں یہ فتویٰ وو ہے:۔چکڑالویت حضور سرورِ کائنات علیہ التسلیمات کے منصب و مقام اور آپ کی تشریعی حیثیت کے منکر اور آپ کی افادیت مبارکہ کے جانی دشمن۔رسولِ کریم کے کھلے باغیوں نے رسول کے خلاف ایک مضبوط محاذ قائم کر دیا ہے۔جانتے ہو باغی کی سزا کیا ہے صرف گولی۔“ شیعہ حضرات کے متعلق کہ ان کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں:۔”بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے۔ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خاص زنا ہے۔معاذاللہ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الہی ہے۔اگر مرد سنی اور عورت ان خبیثوں کی ہو جب بھی نکاح ہر گز نہ ہو کا محض زنا ہو گا۔اولاد ولد الزنا ہو گی۔باپ کا ترکہ نہ پائے گی اگرچہ اولاد بھی سنی ہو کہ شرعا ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں۔عورت نہ ترکہ کی مستحق ہو گی نہ مہر کی کہ زانیہ کے لیے مہر نہیں۔رافضی اپنے کسی قریب حتی کہ باپ بیٹے ماں بیٹی کا ترکہ نہیں پا سکتا۔سنی تو سنی کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلاً کچھ حق نہیں۔ان کے مرد عورت عالم جاہل کسی سے میل جول ،سلام کلام سخت کبیره اشد حرام۔جو ان کے ملعون عقیدہ پر آگاہ ہو کر بھی انہیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے