دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 213
213 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری میں شک کرے۔۔۔کافر بے دین ہے اور اس کے لئے بھی یہی سب احکام ہیں جو ان کے لئے مذکور ہوئے۔مسلمان پر فرض ہے کہ اس فتویٰ کو بگوش ہوش سنیں اور اس پر عمل کر کے سچے پکے سنی بنیں۔“ فتویٰ مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خان بحواله رسالہ ردُ الرافضة) یہ اس میں آگیا ہے۔یہاں یہ سوال نہیں کہ احمدی ، وہابیوں ، دیوبندیوں وغیرہ کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے یا ان کی شادیوں کو کیوں مکروہ سمجھا جاتا ہے۔اس سے کہیں زیادہ فتویٰ موجود ہے۔ہمیں ساروں کو اکٹھا لے کر کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔" حضور نے یہ صرف چند مثالیں ممبرانِ قومی اسمبلی کی خدمت میں پیش کی تھیں ورنہ یہ فتاویٰ تو سینکڑوں ہزاروں ہیں اور مختلف فرقوں نے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگائے ہوئے ہیں اور دوسرے فرقوں میں شادی کی ممانعت کے فتوے دیئے ہیں۔چند مزید مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔شادی کے معاملہ میں دیوبند کا ایک فتویٰ پیش کرتے ہیں۔مولوی رشید گنگوہی صاحب دیوبند کے ایک نہایت نمایاں عالم تھے اور جماعت احمدیہ کی مخالفت میں بھی بہت پیش پیش تھے۔ان سے سوال پوچھا گیا کہ اگر ایک سنی عورت شیعہ مرد سے شادی کرے اور اسے معلوم ہو کہ یہ مرد شیعہ ہے اور پھر وہ عقائد کو حیلہ بنا کر بغیر طلاق کے سنی سے دوسری شادی کرلے تو اس نکاح کی کیا حیثیت ہے؟ اور اگر کسی سنی کی اولاد شیعہ ہو جائے تو کیا وہ اس سنی کا ترکہ پائے گی۔اس سوال کے جواب میں رشید گنگوہی صاحب کا فتویٰ یہ تھا:۔”جس کے نزدیک رافضی کافر ہے وہ فتویٰ اوّل ہی سے بطلان نکاح کا دیتا ہے۔اس میں اختیار زوجہ کا کیا اعتبار ہے پس جب چاہے علیحدہ ہو عدت کر کے نکاح دوسرے سے کر سکتی ہے اور جو فاسق کہتے ہیں ان کے نزدیک