دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 204 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 204

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 204 اگر کسی نے کہا کہ کہ کاش حضرت آدم گیہوں نہ کھاتے تو ہم لوگ شقی نہ ہوتے تو اس کی تکفیر کی جائے۔ایک نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اگر گواہ حاضر نہ ہوئے اور اس نے کہا خدا اور فرشتوں کو گواہ کیا تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔اور اگر کسی نے رمضان کی آمد کے وقت کہا بھاری مہینہ آیا تو یہ کفر ہے۔اگر ایک شخص مجلس علم سے آتا ہے اور کسی نے کہا کہ تو بت خانہ سے آتا ہے تو یہ کفر ہے۔۔اگر کسی نے کہا کہ مجھے جیب میں روپیہ چاہئے میں علم کو کیا کروں تو تکفیر کیا جائے گا۔اگر کسی نے فقیر کو مال حرام میں سے کچھ دے کر ثواب کی امید رکھی تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔اور اگر فقیر نے یہ بات جان کر دینے والے کو دعا دی اور دینے والے نے اس پر آمین کہی تو کافر ہوا۔(54) اس دور میں تو علماء نے تکفیر کے دائرہ کو اور بھی وسیع کر دیا ہے۔چنانچہ 1978ء میں جمعیت العلماء پاکستان کے ایک لیڈر مفتی مختار احمد گجراتی نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ دیکھنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا تھا (55) اور اس پارٹی کے اراکین اسمبلی کے اس اجلاس میں بھی موجود تھے بلکہ جمعیت العلماء پاکستان کے قائد شاہ احمد نورانی صاحب نے تو جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے قرار داد پیش بھی کی تھی۔اس موقع پر قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں جماعت اسلامی کے اراکین اس بات کے لئے بہت کوشاں تھے کہ احمدیوں کو آئین میں ترمیم کر کے غیر مسلم قرار دیا جائے خود مودودی صاحب کے بارے میں کئی علماء یہ فتویٰ دیتے آئے تھے کہ وہ ان تیس دجالوں میں سے ایک ہیں جن کے بارے میں آنحضرت صلی الم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔مولوی محمد صادق صاحب یہ فتویٰ دیتے ہیں۔