دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 203
203 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اور کفر کے فتووں کا یہ سلسلہ ایک صدی پہلے شروع نہیں ہوا بلکہ صدیوں سے یہ عالم چلا آرہا ہے۔مثلاً فتاویٰ عالمگیری میں مختلف مآخذ کے حوالہ سے مختلف صورتیں درج ہیں جن میں ایک شخص پر کفر کا فتویٰ لگتا ہے۔صرف چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔اس میں لکھا ہے کہ اگر کسی نے اپنے ایمان میں شک کیا اور کہا میں ایماندار ہوں انشاء اللہ تو وہ کافر ہے۔جس شخص نے قرآن یعنی کلام اللہ کی نسبت کہا کہ اللہ کا کلام مخلوق ہے تو وہ کافر ہے۔اگر کسی نے ایمان کو مخلوق کہا تو وہ کافر ہے۔اگر کسی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ انصاف کے واسطے بیٹھا ہے یا کھڑا ہے تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔اور اگر کہا کہ میرا آسمان پر خدا اور زمین پر فلاں تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔اگر کسی سے کہا گیا کہ بہت نہ کھایا کر خدا تجھے دوست نہیں رکھے گا اور اس نے کہا میں تو کھاؤں گا خواہ مجھے دوست رکھے یا دشمن تو اس کو کافر کہا جائے گا۔اور اسی طرح اگر کہا کہ بہت مت ہنس یا بہت مت سو یا بہت مت کھا اور اس نے کہا کہ اتنا کھاؤں گا اور اتنا ہنسوں گا اور اتنا سوؤں گا جتنا میراجی چاہے تو اس کی تکفیر کی جائے۔اگر کسی سے کہا گیا کہ خدائے تعالیٰ نے چار بیویاں حلال کی ہیں اور وہ کہے کہ میں اس حکم کو پسند نہیں کرتا تو یہ کفر ہے۔اگر کسی نے امامت ابو بکر سے انکار کیا تو وہ کافر ہے اور اگر کسی نے خلافت حضرت عمر سے انکار کیا تو وہ بھی اصح قول کے مطابق کافر ہے۔