دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 197
197 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری مطلب یہ ہے کہ۔کفر چھوٹا بڑا ہوتا ہے، بڑا کفر تو ملت سے ہی نکال دیتا ہے جب کہ چھوٹا ملت سے نہیں نکالتا۔66 معلوم ہوا کہ کفر کے انواع و مراتب ہیں۔۔۔“ (کشف الباری عمافی صحیح البخاری جلد دوم ، افادات شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان ناشر مکتبہ فاروقیہ کراچی ،ص200) اب ہم اس فلسفہ کا جائزہ لیتے ہیں چونکہ احمدیوں کی بعض تحریروں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انکار کو کفر قرار دیا گیا ہے ، اس لئے انہیں آئین میں غیر مسلم قرار دینا چاہئے۔تو پھر ہمیں یہ اصول تسلیم کرنا پڑے گا کہ جس فرقہ کی تحریروں میں دوسرے فرقہ کے لوگوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو اسے آئین میں تبدیلی کر کے غیر مسلم قرار دینا چاہئے۔اس اصول کے مضمرات کا جائزہ لینے کے لیے ہم دیکھتے ہیں کہ صدیوں سے مختلف علماء دوسرے فرقوں کے متعلق اور ان کے ایمان کے بارے میں کیا فتاویٰ دیتے رہے ہیں۔حنفیوں کی کتاب عرفانِ شریعت میں لکھا ہے کہ غیر مقلدین کی بدعت بہت وجہ سے کفر تک پہنچی ہوئی ہے کیونکہ وہ اجماع ، تقلید اور قیاس کے منکر ہیں اور بقول ان کے انہوں نے انبیاء کی شان میں گستاخی کی ہے۔اور اسی کتاب میں فتویٰ ہے کہ حنفیوں کی نماز غیر مقلدین کے پیچھے درست نہیں اور وجوہات میں سے نہیں اور وجوہات میں سے یہ وجوہات بھی لکھی ہیں کہ اگر کٹورہ پانی میں چھ ماشہ پیشاب پڑ جائے تو وہ اسے پاک سمجھتے ہیں۔اسی طرح شافعی اگر فرائض و شرائط حنفی کی رعایت نہ رکھیں تو ان کے پیچھے بھی نماز درست نہیں (48)۔خدا تعالیٰ کے مامور کی تکذیب و تکفیر تو ایک رف رہی فتاوی عثمانی مصنفہ تقی عثمانی صاحب میں لکھا ہے کہ اگر کوئی علماء کو بُرا بھلا کہے اور سبّ و شتم تو یہ نہ صرف بد ترین اور فسق ہے بلکہ ان کلمات کا کلمات کفر ہونے کا اندیشہ ہے اور اگر ایک شخص مؤذن کو بُرا بھلا کہے کہ وہ اذان کیوں دیتا ہے یہ کلمات کفر ہوں گے اور اگر کوئی شخص منکر حدیث ہو تو یہ کفر ہے اور تجدید ایمان اور تجدید نکاح ضروری ہے ،نہ صرف یہ بلکہ اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ جہنم دائگی نہیں ہے تو اس کرے