دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 196 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 196

196 وجو دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، وہ مسلمان رہتا ہے۔“ پھر بیٹی بختیار صاحب نے ان دو سو مولویوں کی بابت سوال کیا جنہوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا کہ وہ بھی ملت اسلامیہ سے خارج نہیں سمجھے جا اور یہ بات صرف احمدیوں کے لٹریچر تک محدود نہیں کہ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جن پر ایک لحاظ سے کفر کا لفظ تو آتا ہے لیکن وہ پھر بھی ملت اسلامیہ میں ہی رہتے ہیں اور ان کو عرف عام میں مسلمان ہی کہا جاتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " نے اس کارروائی کے دوران پرانے علماء میں سے مشہور علامہ ابنِ تیمیہ کا حوالہ دیا۔وہ اپنی تصنیف کتاب الایمان میں لکھتے ہیں:۔وو ”۔۔فَقَالَتِ الْعُلَمَاءُ فِي تَفْسِيرِ الْفُسُوقِ هَاهُنَا هِيَ الْمَعَاصِي قَالُوْا فَلَمَّا كَانَ الظُّلْمُ ظُلْمَيْنِ وَالْفِسْقُ فِسْقَيْنِ كَذَالِكَ الْكُفْرُ كُفْرَانِ اَحَدُهُمَا يَنْقُلُ عَنِ الْمِلَّةِ وَالْآخَرُ لَا يَنْقُلُ عَنِ الْمِلَّةِ“ (کتاب الایمان، تصنیف احمد ابن تیمیه ، ناشر مطبع الانصاری، دہلی ص 171) یعنی جس طرح ظلم دو قسم کا ہوتا ہے، فسق دو قسم کا ہوتا ہے کفر بھی دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک کفر ملت سے نکالنے کا باعث بنتا ہے اور دوسرا کفر ملت سے نکالنے کا باعث نہیں بنتا۔وو۔اس کے علاوہ اس دور میں جماعت کے اشد مخالف مولوی شبیر عثمانی صاحب کا کہنا تھا:۔"۔۔حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے گفرٌ دُونَ کُفْرِ کے الفاظ بعینہ مروی نہیں ہیں بلکہ ان سے نُؤْمَن لَّمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولئِكَ هُمُ الْكَفِرُونَ“ کی تفسیر میں آئ الْكُفْرُ لَا يَنْقُلُ عَنِ الْمِلَّةِ منقول ہے جس کا