دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 198 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 198

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 198 کلمہ پر بھی کفر کا اندیشہ ہے (49)۔بعض علماء تو اس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ قرآن شریف مخلوق ہے یا اگر یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی رؤیت محال ہے تو یہ بھی ان لوگوں میں شامل ہے جنہیں کافر کہنا چاہئے (50)۔دیوبندی مسلک کی کتاب عزیز الفتاویٰ میں لکھا ہے اگر نکاح ثانی کو معیوب سمجھا جائے تو اس سے کفر کا اندیشہ ہے اور یہ بھی لکھا کہ ایک مرد صالح کو ڈانٹنے اور ذلیل کرنے سے آدمی فاسق اور بے دین ہو جاتا ہے (48)۔اسی طرح دیوبندیوں کی طرف سے ان کے نمایاں عالم رشید احمد گنگوہی صاحب نے فتویٰ دیا تھا کہ شیعہ حضرات جو تعزیہ نکالتے ہیں وہ بت ہے اور تعزیہ پرستی کفر ہے۔جب ایک شخص نے ان سے میلاد میں شرکت کرنے والوں کے متعلق جو یہ مانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی یی کم حاضر ہوتے ہیں اور بریلوی عالم احمد رضا خان صاحب کے بعض معتقدات کا ذکر کر کے ان کے متعلق سوال کیا تو رشید احمد گنگوہی صاحب نے جواب دیا جو شخص اللہ جل شانہ کے سوا عالم غیب کسی دوسرے کو ثابت کرے اور اللہ تعالیٰ کے برابر کسی دوسرے کا علم جانے نے وہ بے شک کافر ہے اس کی امامت اور اس سے میل جول محبت موڈت سب حرام ہیں۔روافض کے متعلق سوال کیا گیا تو گنگوہی صاحب نے فتویٰ دیا کہ علماء میں سے بعض نے ان کے متعلق کافر کا حکم دیا ہے اور بعض نے ان کو مرتد قرار دیا ہے (51)۔فرنگی محل کے عالم مولوی عبد الحي صاحب نے فتوے دیئے کہ بعض شیعہ فرقے کافر ہیں (52) - حسام الحرمین علی منحر الكفر والمین جو کہ بریلوی قائد احمد رضا خان صاحب کی تصنیف ہے اس میں لکھا ہے کہ:۔”ہر وہ شخص کہ دعویٰ اسلام کے ساتھ ضروریات دین میں سے کسی چیز کا منکر ہو یقیناً کافر ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنے اور اس کی جنازے کی نماز پڑھنے اور اس کے ساتھ شادی بیاہ کرنے اور اس کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانے اور اس کے پاس بیٹھنے اور اس سے بات چیت کرنے اور تمام معاملات میں اس کا حکم وہی ہے جو مرتدوں کا حکم ہے۔(53)