دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 191 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 191

191 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جب 1953ء کی تحقیقاتی عدالت میں حضرت خلیفة المسیح الثانی سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص مرزا غلام احمد صاحب کے دعاوی پر غور کرنے کے بعد اس دیانتدارانہ نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ یہ دعاوی غلط ہیں تو کیا حضور نے جواب دیا کہ ہاں عمومی طور پر اس کو مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔ایسا حص مسلمان رہے گا ؟ تو اس پر اور اسی کارروائی کے دوران جب جماعت اسلامی کے وکیل چوہدری نذیر احمد صاحب نے حضرت خلیفة المسیح الثانی سے سوال کیا:۔کیا آپ اب بھی یہ عقیدہ رکھتے ہیں جو آپ نے کتاب آئینہ صداقت کے پہلے باب میں صفحہ 35 پر ظاہر کیا تھا۔یعنی یہ کہ تمام وہ مسلمان جنہوں نے مرزا غلام احمد صاحب کی بیعت نہیں کی خواہ انہوں نے مرزا صاحب کا نام بھی نہ سنا ہو وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“ وو اس کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے فرمایا: یہ بات خود اس بیان سے ظاہر ہے کہ میں ان لوگوں کو جو میرے ذہن میں ہیں مسلمان سمجھتا ہوں۔پس جب میں کافر کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو میرے ذہن میں دوسری قسم کے کافر ہوتے ہیں جن کی میں پہلے ہی وضاحت کر چکا ہوں یعنی وہ جو ملت سے خارج نہیں۔جب میں کہتا ہوں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ نظریہ ہوتا ہے جس کا اظہار کتاب مفردات راغب کے صفحہ 240 پر کیا گیا ہے۔جہاں اسلام کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ایک دُونَ الْإِيْمَانِ اور دوسرے فَوْقَ الْإِيْمَانِ دُونَ الْإِيْمَانِ میں وہ مسلمان شامل ہیں جن کے اسلام کا درجہ ایمان سے کم ہے۔فَوْقَ الْإِيْمَانِ میں ایسے مسلمانوں کا ذکر ہے جو ایمان میں اس درجہ ممتاز ہوتے ہیں کہ وہ معمولی ایمان سے بلند تر ہوتے ہیں۔اس لئے میں نے جب یہ کہا تھا کہ بعض لوگ دائرہ سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ مسلمان تھے جو فوق الایمان کی تعریف کے ماتحت آتے ہیں۔مشکوۃ اسلام