دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 190
190 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اسلام کی وضاحت میں لکھا ہے کہ شرعاً اسلام کی دو قسمیں ہیں۔اگر کوئی شخص زبان سے اقرار کر لے۔دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کی جان مال عزت محفوظ ہو جاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ دلی اعتقاد بھی ہو اور عملاً اس کے تقاضوں کو پورا بھی کرے۔رو ނ۔جماعت احمدیہ کا یہی مسلک رہا ہے جو شخص اس قسم کی صورتوں میں ، احادیث نبویہ کی روشنی میں جن کی چند مثالیں اوپر دی گئی ہیں ،غلط افعال یا عقائد کی وجہ سے، دائرہ اسلام سے خارج بھی ہو لیکن وہ کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو تو اسے بھی عرف عام میں مسلمان ہی کہا جائے گا اور وہ ملت اسلامیہ میں ہی شمار ہو گا اور قانون کی رو سے اسے مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔اس کا حساب اللہ تعالیٰ لے گا۔حکومتوں یا انسانوں کا یہ کام نہیں ہے کہ اس سے یہ حق چھینیں۔ورنہ تو یہ بھی ماننا پڑے گا جو شخص تین جمعے عمداً ترک کرے وہ قانون کی رو سے مسلمان نہیں ہے اور اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا، جو میت پر چیخ کر روئے وہ قانون کی مسلمان نہیں ہے ا اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا، جو نماز ترک کرے وہ قانون کی رو سے مسلمان نہیں ہے اور اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا ، جو غیر اللہ کی قسم کھائے وہ قانون کی رو سے مسلمان نہیں ہے اور اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا۔ظاہر ہے مندرجہ بالا صورت محض فتنہ کا دروازہ کھولنے والی بات ہو گی اور زمانہ نبوی صلی علی کرم میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اسی طرح جماعت کے لڑیچر میں جن چند جگہوں کے حوالے 1953ء کی تحقیقاتی عدالت میں بھی دیئے گئے تھے اور اب بھی دیئے جا رہے تھے کہ ان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب کو کفر لکھا گیا ہے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب کو دائرہ اسلام سے نکلنے کا مترادف لکھا گیا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہیں یا انہیں یہ حق نہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان کہیں۔اس کی وضاحت بار ہا جماعتی لٹریچر میں دی گئی ہے۔م الله سة