دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 192 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 192

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 192 میں بھی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی ظالم کی مدد کرتا ہے اور اس کی حمایت کرتا ہے وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔“ ( تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان ، ناشر احمد یہ کتابستان حیدر آباد۔ص 19، 20) آئینہ صداقت کا جو حوالہ پیش کر کے یہ اعتراض اُٹھایا جاتا ہے کہ اس میں غیر احمدی مسلمانوں کو غیر مسلم کہا گیا ہے خود اُس عبارت میں غیر احمدی مسلمانوں کو مسلمان قرار دیا گیا ہے۔اس حقیقت سے یہ اعتراض بالکل باطل ہو جاتا ہے۔اور اس کارروائی کے دوران 16 اگست کو جب حضرت خلیفة المسیح الثالث سے سوال کیا گیا کہ ایسی صورت میں اگر کسی شخص کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا ہے تو کیا پھر بھی مسلمان ہو گا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ ہاں وہ ملت اسلامیہ کا فرد ہو گا۔اور وہ بعض جہت سے مسلمان ہے اور بعض جہت سے کافر ہے۔اور 7 / اگست کو جب دو پہر کے سیشن کی کارروائی ہوئی ہے تو اس میں حضرت خلیفة المسیح الثالث" نے اس موقع پر بھی یہ فرمایا تھا کہ آنحضرت صلی الم کے زمانہ سے اب تک دو مختلف گروہ پیدا ہوتے رہے ہیں ایک سے وہ مخلصین جنہوں نے اسلام کو اچھی طرح قبول کیا اور ان لوگوں نے رضا کارانہ طور پر اپنی مرضی اور اختیار۔اپنی گردنیں خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش کر دیں۔اپنے اخلاص کے مطابق خدا کی راہ میں قربانی کرنے والا اور تمام احکامات پر عمل کرنے والا یہ ایک گروہ ہے۔اس کے ساتھ ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو اس مقام کا نہیں حضور نے حدیث کا حوالہ دے کر فرمایا کہ رسول کریم صلی للی نیلم کے زمانہ سے بعض گناہوں کے متعلق کفر ہے۔کا لفظ استعمال ہوتا تھا اور ساتھ ہی ان کو مسلمان بھی کہا جاتا تھا اور حضور نے یہ آیت کریمہ پڑھی:۔