دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 184
184 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کیونکہ ابتدا سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا ہاں ضال اور جادہ صواب سے منحرف ضرور ہو گا۔اور میں اس کا نام بے ایمان نہیں رکھتا۔ہاں میں ایسے سب لوگوں کو ضال اور جادہ صدق و صواب سے دور سمجھتا ہوں جو اُن سچائیوں سے انکار کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے میرے پر کھولی ہیں۔میں بلا شبہ ایسے ہر ایک آدمی کو ضلالت کی آلودگی سے مبتلا سمجھتا ہوں جو حق اور راستی سے مشرف ہے۔لیکن میں کسی کلمہ گو کا نام کافر نہیں رکھتا جب تک وہ میری تکفیر اور تکذیب کر کے اپنے تئیں خود کافر نہ بنا لیوے۔سو اس معاملہ میں ہمیشہ سے سبقت میرے مخالفوں کی طرف سے ہے کہ انہوں نے مجھ کو کافر کہا۔میرے لئے فتویٰ طیار کیا۔میں نے سبقت کر کے ان کے لئے کوئی فتویٰ طیار نہیں کیا۔اور اس بات کا وہ خود اقرار کر سکتے ہیں کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسلمان ہوں تو مجھ کو کافر بنانے سے ر رسول اللہ صلی الہ وسلم کا فتویٰ ان پر یہی ہے کہ وہ خود کافر ہیں۔سو میں ان کو کافر نہیں کہتا بلکہ وہ مجھ کو کافر کہہ کر خود فتویٰ نبوی کے نیچے آتے ہیں۔“ (8) تریاق القلوب میں اسی عبارت کے نیچے حاشیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔” یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکامِ جدیدہ لاتے ہیں۔لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسی ہی جناب الہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الہیہ سے سرفراز ہوں۔ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔ہاں بد قسمت منکر جو ان مقربانِ الہی کا انکار کرتا ہے وہ اپنے انکار کی شامت سے دن بدن سخت دل ہوتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ نور ایمان اس کے اندر سے مفقود ہو جاتا ہے اور یہی احادیث نبویہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ انکار اولیاء اور ان سے دشمنی رکھنا اول انسان کو غفلت اور دنیا پرستی میں ڈالتا ہے اور پھر اعمال حسنہ اور افعال صدق اور اخلاص کی ان سے توفیق چھین لیتا ہے۔“(8)