دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 15 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 15

15 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری سے دیرینہ تعلقات تھے۔احمدیوں نے عرض کی کہ ان کو ووٹ دینے کی اجازت دی جائے۔چنانچہ ان کو یہ اجازت دی گئی (5)۔لیکن مجموعی صورت حال یہ تھی کہ باقی جماعتوں کی نسبت پاکستان پیپلز پارٹی پیچھے پڑ کر اکثر سیٹوں پر احمدیوں کی حمایت حاصل کر رہی تھی۔اور دوسری طرف 1970ء کے الیکشن میں کسی ایک جماعت کی مدد کر نا جماعت احمدیہ کے لیے اپنی ذات میں ایک بہت نازک مسئلہ تھا۔کیونکہ جماعت احمد یہ ایک مذہبی جماعت ہے اور ایسے معاملات اس کے نزدیک اپنے اصل مقاصد کی نسبت بہت کم اہمیت رکھتے تھے۔لیکن ملکی حالات کا تقاضا تھا کہ مغربی پاکستان میں کسی ایک پارٹی کو مضبوط شکل میں ابھرنا چاہیے ورنہ ملک کے لیے اس کے مخطر ناک نتائج نکلیں گے۔اور بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ یہ خدشات سو فیصد صحیح تھے۔لیکن پیپلز پارٹی والوں کو یہ بات بھی محسوس ہو رہی تھی کہ احمدی ہر جگہ پر ان کی حمایت کیوں نہیں کر رہے۔چنانچہ ان کے چوٹی کے راہنماؤں میں سے ایک نے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی خدمت میں عرض کی کہ اگر آپ ہماری اتنی مدد کر رہے ہیں تو مکمل مدد کیوں نہیں کرتے۔یعنی تمام حلقہ ہائے انتخاب میں ان کی حمایت کیوں نہیں کرتے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے 1973ء کی ہنگامی مجلس شوری میں فرمایا: ” یہ ان کو احساس تھا کہ ہم کلیڈ ان کی مدد نہیں کر رہے کیونکہ الحاق کی صورت نہیں ہے۔دراصل ہم ان سے الحاق کر ہی نہیں سکتے تھے۔ہمیں دنیا کے اقتدار اور مال و دولت کی ذرہ بھر پرواہ نہیں ہے اس لئے جب میں اپنے آپ کو ایک مذہبی جماعت کہتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے جاری فرمایا ہے اور جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر تم میرے ساتھ محبت اور پیار کا غیر منقطع رشتہ قائم کرو گے تو دین اور دنیا کے سارے انعامات تمہیں دے دوں گا۔ہم اس حقیقت زندگی کو بھول کر اور خدا تعالیٰ کے انعامات کو چھوڑ کر کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے ساتھ دنیوی الحاق کیسے کر سکتے ہیں ہم ان کے زر خرید غلام تو نہیں، ہم غلام ہیں اور اس کا پورے زور سے اعلان کرتے ہیں لیکن ہم صرف اس عظیم ہستی کے غلام ہیں جو واحد و یگانہ ہے۔دنیا کے ساتھ ہمارے دنیوی تعلقات ہیں، پیار کے تعلقات ہیں، بطور خادم بنی نوع انسان کی خدمت کرنے کے تعلقات ہیں، غم خوار اور ہمدرد کی حیثیت میں ان کی ہمدردی کرنے کے تعلقات ہیں۔اس لحاظ سے گویا ہر فرد بشر کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں۔“(6)