دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 165 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 165

165 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری تو اس نام کو استعمال کرنے کی Monoply ہے اور عقیدہ پر کسی گروہ کی Monoply نہیں ہوتی۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا فرض کریں کہ جہاں تک عقیدہ کا تعلق ہے کسی کے پاس اس کی Monoply نہیں ہے لیکن میں ابھی اس موضوع کی طرف نہیں آیا۔حقیقت یہ ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب اس موضوع کی طرف آنا ہی نہیں چاہتے تھے اور نہ ہی اس کی طرف انہوں نے آنے کی کبھی کوشش کی۔اس موقع پر حضور نے یہ مثال بیان فرمائی کہ اگر ایک گروہ کہے کہ عیسائیت کا نام صرف وہی گروہ استعمال کر سکتا ہے اور دوسرے گروہ یا فرقے یہ نام استعمال نہیں کر سکتے۔یقینا لکس صابن کی فروخت کی بجائے یہ مثال زیر بحث موضوع کے مطابق تھی۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب کافی جز بز ہوئے اور کہنے لگے کہ I am not anticipating any thing please۔I am just dealing with the restriction of the human rights۔ایک بار پھر یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب اصل موضوع کی طرف آنے کی بجائے ادھر اُدھر کی باتوں پر وقت ضائع کر رہے ہیں۔ان کی پیش کردہ مثالیں اس قدر دور از حقیقت اور موضوع سے ہٹ کر تھیں کہ حضور کو سوال کر کے کوشش کرنی پڑتی تھی کہ اصل بات واضح ہو اور سوال و جواب کا سلسلہ اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آئے اور اٹارنی جنرل صاحب غلط سوال کر کے خود الجھن میں پھنس جاتے تھے۔لیکن اس مرحلہ پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بیچارگی کچھ بوکھلاہٹ میں تبدیل ہو چکی تھی۔انہوں نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ حکومت کو مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی اجازت ہے ایک بالکل لا یعنی سی مثال دے ڈالی۔انہوں نے مثال دی کہ ہندوستان میں بعض صوبوں میں گائے کی قربانی کی اجازت نہیں۔اس پر انہیں یاد دلایا گیا کہ اول تو اسلام میں ہر شخص پر بقر عید کے موقع پر قربانی کرنا لازم نہیں بلکہ صرف صاحب استطاعت