دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 166
166 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری پر ہے اور گائے کی قربانی کرنا بھی فرض نہیں ہے بکرے کی قربانی بھی کی جا سکتی ہے۔لیکن اپنے نکتے کو ثابت کرنے کے لئے اٹارنی جنرل صاحب نے ایک فرضی آدمی کی مثال پیش کی اور وہ مثال ہم ان کے الفاظ میں ہی دو درج کر دیتے ہیں۔۔۔اگر ایک آدمی کے پاس صرف گائے ہے بقر عید پر اور وہ بیچارا اس کو قربان کرنا چاہتا ہے۔۔۔اور وہ کہتا ہے کہ میرے پاس پیسے ویسے ہیں اور گائے بھی میرے پاس ہے۔۔66 خدا جانے وہ اس گائے والے آدمی کی مثال پیش کر کے کیا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن جب حضور نے ان کی مضحکہ خیز مثال سن کر فرمایا کہ اگر اس شخص کے پاس پیسے ہیں تو وہ قربانی کے لئے دنبہ کیوں نہیں خرید لیتا۔بیچارے اٹارنی جنرل صاحب کو اس کے بعد اس مثال کو ترک ہی کرنا پڑا۔ہر پڑھنے والا اس بات کو دیکھ سکتا ہے کہ یہ کوئی متعلقہ مثال نہیں۔معین طور پر گائے ذبح کرنے کا حکم نہیں۔بکرا بھی ذبح کیا جا سکتا ہے اور اگر یہ شخص قربانی نہیں بھی کر سکے تو اس کو اپنے ضمیر کے خلاف کوئی اعلان نہیں کرنا پڑتا اور اس مثال کی اس بات سے کوئی مناسبت نہیں کہ ایک فرقہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے ،مسلمان کہتا ہے اور کسی اور مذہب کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہیں سمجھتا اور ایک دن کوئی اسمبلی یہ نا معقول فیصلہ کرے کہ آج سے قانون کی رو سے اس فرقہ کو مسلمان شمار نہیں کیا جائے گا۔اس کے بعد انہوں نے پھر کچھ فرضی مثالیں دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مذہبی معاملات میں مداخلت کرے۔پہلے انہوں نے اس غرض کے لئے یہ کوشش کی کہ آئین کے Preamble کا حوالہ دیا کہ اس میں لکھا ہے