دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 139
139 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ایک اور غریبانہ ہیئت کے نوجوان تھے جو سیالکوٹ کے کسی گاؤں سے اپنے کسی عزیز سے ملنے آئے تھے۔ان کے پیٹ میں گولی لگی تھی جو چند انتڑیوں کو کاٹتی ہوئی معدے میں جاڑ کی تھی۔ان کا آپریشن پہلی رات ہی کیا گیا اور گولی نکال کے انتریاں سی دی گئیں اور وہ جلد صحت یاب ہو گئے۔راشد حسین صاحب جنہیں دفاع کرتے ہوئے سینے میں گولی لگی تھی۔ان کی حالت بھی ٹھیک نہ تھی کیونکہ گولی سینے سے پھیپھڑوں میں سے ہوتی ہوئی ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ آکر ٹھہر گئی تھی۔اس وجہ سے وہ نکالی نہ جاسکتی تھی۔پھیپھڑوں کی حد تک تو ان کا علاج ہو گیا۔مگر گولی ان کے اندر ہی رہی جو بعد میں جرمنی جاکر نکلوائی گئی۔اسی طرح مختلف لوگوں کو جو گولیاں لگیں وہ نکال دی گئیں اور علاج کر دئےے گئے۔خاکسار کے نانا کو لاہور وغیرہ بھی لے جایا گیا مگر ان کے سر سے گولی کا نکلنانا ممکن رہا۔جس کی وجہ سے وہ تین ماہ بعد فضل عمر ہسپتال میں وفات پا کر شہدائے احمدیت میں داخل ہو گئے۔بعد میں چند روز کے بعد ہمیں سرگودھاملزموں کی شناخت کے لئے اور وقوعہ کی رپورٹ کے لئے کیا گیا۔شناخت پریڈ میں وہ تمام غنڈے موجود تھے جو ہمارے قافلوں پر زیادتی کرتے تھے اور ان میں سے ایک دووہ بھی تھے جو فائرنگ میں شامل تھے اور خاکسار انہیں پہچانتا تھا۔چنانچہ خاکسار نے مجسٹریٹ کو ان کی نشاندہی بھی کی۔مگر جس طرح ایک پلان تھا ہماری شناخت کو تسلیم نہیں کیا گیا اور نتیجہ یہ نکالا گیا کہ کوئی ملزم بھی پہچانا نہیں گیا۔اسی طرح وقوعہ کی تفصیلات کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔اس کے بعد پھر دو دفعہ ہمیں حاضری پر عدالت میں بلایا گیا۔مگر معلوم ہوا کہ فیصلہ وہی ہو تارہا جو صاحب اقتدار لوگ چاہتے تھے۔“ اس واقعہ میں زخمی ہونے والے دیگر دوستوں کے نام یہ ہیں: 1۔مکرم لطف الرحمن صاحب ( ٹھیکیدار پہاڑی) دار النصر ربوہ 2 مکرم حاکم علی صاحب فیکٹری ایریار بوہ 3 مکرم میاں عبد السلام صاحب زر گر ربوہ 4 مکرم ڈاکٹر عبد الغفور صاحب سر گودھا