دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 140 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 140

140 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 5۔مکرم ملک فتح محمد صاحب ریلوے روڈر بوہ 6۔مکرم ہدایت اللہ چٹھہ صاحب ربوہ 17 / جولائی کو کارروائی شروع کرنے کی اطلاع اور صدر انجمن احمد یہ کا جواب حکومت کی طرف سے جس عجیب رویہ کا اظہار کیا جارہا تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 16 / جولائی 1974ء کی شام کو قومی اسمبلی کے سیکریٹری صاحب کا فون ربوہ آیا کہ جماعت کا وفد ، امام جماعت احمدیہ کی سر براہی میں اسلام آباد آجائے۔کل سے قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کارروائی کا آغاز کرے گی۔یہ بات پیش نظر رہے کہ اس وقت ربوہ سے اسلام آباد جانے میں تقریبا چھ گھنٹے لگتے تھے اور اس وقت راستے میں امن و امان کی صورتِ حال نہایت مخدوش تھی۔راستے میں سر گودھا تھا جہاں ایک ہی روز قبل احمدیوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا گیا تھا اور اس امر کی تحریری اطلاع کوئی نہیں دی گئی تھی صرف زبانی اطلاع دی گئی تھی۔ان حالات میں صدر انجمن احمد یہ یہ مناسب نہیں سمجھتی تھی کہ حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں درخواست کرے کہ وہ اسلام آباد تشریف لے جائیں۔چنانچہ فون پر سیکریٹری صاحب کو اس بات سے مطلع کر دیا گیا اور سٹیرنگ کمیٹی کے سربراہ کو خط لکھ کر اطلاع دی گئی کہ ان حالات میں صدر انجمن احمد یہ حضرت خلیفتہ المسیح کو یہ مشورہ دینے کی ذمہ داری نہیں لے سکتی کہ وہ آج ہی اسلام آباد روانہ ہو جائیں اور ان سے یہ مطالبہ کیا کہ با قاعدہ تحریری نوٹس بھجوایا جائے۔راستے کے لئے حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ملٹری اسکورٹ مہیا کرے۔اس کارروائی کے آغاز کی معین تاریخ کو خفیہ رکھا جائے۔ہمارے پندرہ مسلح محافظ ساتھ ہوں گے اور آخر میں لکھا کہ ہم آپ کے جواب کے منتظر رہیں گے۔اس کا جواب 17 / جولائی 1974ء کو قومی اسمبلی کے سیکریٹری اسلم اسد اللہ خان صاحب کی طرف سے یہ موصول ہوا کہ نئی تاریخ 22 / جولائی رکھی گئی ہے اور اسے خفیہ رکھا جائے گا۔اسکورٹ مہیا کیا جائے گا لیکن پندرہ مسلح محافظ ساتھ رکھنے کے بارے میں اجازت اس لئے نہیں دی جاسکتی کہ راستے میں مختلف اضلاع کے مجسٹریٹ نے اپنے اضلاع میں اسلحہ لے کر جانے پر پابندی لگائی ہو گی اور قومی اسمبلی میں اسلحہ لے کر آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔اور حکومت کا یہ ارادہ کہ 17 جولائی 1974ء کو کارروائی شروع کر دی جائے اس لئے بھی عجیب تھا کہ 18 / جولائی کو تو صد انی ٹریبونل کے سامنے لاہور میں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کا بیان قلمبند ہونا تھا۔یہ کارروائی بند کمرے میں ہوئی لیکن