دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 11
11 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری سے زیادہ دکھ پاکستانی احمدیوں کو ہی ہوتا ہے۔دوسرے یہ کہ پاکستان میں جماعت احمدیہ کا مرکز تھا اور اسی مرکز سے پوری دنیا میں اسلام کی عالمگیر تبلیغ کی مہم چلائی جارہی تھی۔اگر اس ملک میں افرا تفری اور طوائف الملوکی کے حالات پید اہو جاتی تو اس سانحہ کے جماعت کی مساعی پر منفی اثرات مرتب ہوتے۔ایک محب وطن شہری کی حیثیت سے احمدیوں کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آئندہ الیکشن میں کس جماعت کو ووٹ دینے ہیں۔اس مرحلے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور سابق وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے جماعت سے رابطہ کیا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی اجازت سے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ان سے ملاقات کے لیے گئے۔بھٹو صاحب نے اپنی انتخابی مہم کے متعلق بات شروع کی، انہیں یہ امید تھی کہ ان کی انتخابی مہم کے لیے جماعت کوئی مالی مدد کرے گی لیکن اس کے جواب میں انہیں بتایا گیا کہ یہ ممکن نہیں ہو گا کیونکہ جماعت احمد یہ ایک مذہبی جماعت ہے اور وہ اس طرح ایک سیاسی پارٹی کی مدد نہیں کر سکتی۔دورانِ گفتگو بھٹو صاحب کو ایک پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا پڑا۔اور پیپلز پارٹی کے ایک لیڈر ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے انتخابی مہم کا خاکہ اور اُن امید واروں کی فہرست دکھائی جن کو پیپلز پارٹی نے ٹکٹ دیا تھا۔جب حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے یہ فہرست ملاحظہ فرمائی تو ان میں سے اکثریت کمیونسٹ حضرات کی تھی۔جب بھٹو صاحب واپس آئے تو آپ نے انہیں کہا کہ اگر یہ کمیونسٹ حضرات بھٹو صاحب کی مقبولیت کی آڑ میں کامیاب ہو گئے تو پاکستان پر کمیونسٹوں کا قبضہ ہو جائے گا۔اگر تو وہ کمیونسٹوں کا قبضہ چاہتے ہیں تو اس لسٹ کو بر قرار رکھیں ورنہ اسے تبدیل کر دیں۔بھٹو صاحب نے پارٹی کے سینیئر لیڈروں کی میٹنگ طلب کی اور پھر یہ اعلان کیا کہ یہ لسٹ حتمی نہیں ہے۔بالآخر جو نئی لسٹ بنائی گئی اس میں کمیونسٹ حضرات کی تعداد کافی کم تھی۔(1) اس دوران ملک کی انتخابی مہم میں تیزی آتی جارہی تھی۔اور بہت سے پہلوؤں سے حالات مخدوش نظر آ رہے تھے۔جماعت احمد یہ ایک مذہبی جماعت ہے اور سیاسی عزائم نہیں رکھتی لیکن پاکستان کے احمدی محب وطن شہری ہیں اور انہیں دیانتداری سے آئندہ انتخابات میں اپنی رائے کے متعلق کوئی فیصلہ کرنا تھا۔یہ فیصلہ کس طرح اور کن بنیادوں پر کیا گیا۔اس پر حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے مئی ۱۹۷۳ء میں منعقد ہونے والی ہنگامی مجلس شوریٰ میں جس کا تفصیلی ذکر بعد میں آئے گا ان الفاظ میں روشنی ڈالی۔