دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 10 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 10

10 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 1970ء کے الیکشن اور مولویوں کی ناکامی پہلے کی طرح اب بھی پاکستان کی نام نہاد مذہبی جماعتیں جماعت احمدیہ کے خلاف ایک شورش بر پا کرنے کے لیے پر تول رہی تھیں۔اور یہ 1970ء کا سال تھا۔صدر ایوب خان کے دس سالہ دور اقتدار کا خاتمہ ہو چکا تھا۔اور ملک میں مارشل لاء لگا ہوا تھا اور پورے ملک میں انتخابات کی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں۔ہمیشہ کی طرح مذہبی جماعتیں کہلانے والی سیاسی پارٹیوں کو یہ توقع تھی کہ ان کو اس الیکشن میں بہت بڑی کامیابی ملے گی، جس کے بعد ان کے اقتدار کا سورج طلوع ہو گا اور وہ سمجھ رہے تھے کہ اس کے بعد جماعت احمدیہ کی ترقی کو روک دینا کوئی مشکل کام نہیں ہو گا۔پاکستان کے مستقبل کے متعلق ابھرتے ہوئے خدشات اور جماعت احمدیہ کا فیصلہ اس وقت مشرقی پاکستان میں سیاسی صورت حال بڑی حد تک واضح تھی۔وہاں پر عوامی لیگ سیاسی منظر پر مکمل طور پر حاوی نظر آرہی تھی۔اور یہ نظر آرہا تھا کہ صوبائی خود مختاری کے نام پر مشرقی پاکستان میں یہ جماعت اکثر سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔دوسری طرف مغربی پاکستان میں صورت حال یہ تھی کہ تقریبا دس جماعتیں میدان میں اتری ہوئی تھیں اور کوئی جماعت اتنی مضبوط نظر نہیں آرہی تھی کہ یہاں کے سیاسی منظر پر واضح برتری حاصل کر سکے۔اس صورت حال میں دو بڑے خدشات نظر آرہے تھے۔ایک تو یہ کہ اس سیاسی خلا میں نام نہاد مذہبی جماعتیں کوئی بڑی کامیابی حاصل کر لیں اور اپنے زعم میں انہیں بڑی کامیابی کی کافی امید بھی تھی۔علاوہ اس حقیقت کے کہ یہ مذہبی پارٹیاں جماعت احمدیہ کی شدید مخالف تھیں۔ان کے نظریات ایسے تھے کہ وہ پاکستان کی سالمیت اور اہل پاکستان کی آزادی کے لیے بھی بہت بڑا خطرہ تھے۔دوسری طرف یہ خطرہ بھی تھا کہ مغربی پاکستان میں دس کی دس جماعتیں کچھ سیٹیں حاصل کر جائیں اور کوئی بھی اس قابل نہ ہو کہ مستحکم حکومت بنا سکے اور اس طرح ایک سیاسی ابتری اور عدم استحکام کی صورت پید ا ہو جائے۔اور یہ صورت کسی بھی ملک کے استحکام کے لیے زہر کا درجہ رکھتی ہے۔یہ امر پاکستان کے احمدیوں کے لیے دوہری پریشانی کا باعث تھا۔ایک تو یہ کہ آنحضرت کی مبارک تعلیم کے مطابق احمدی جس ملک کا باشندہ ہو اس کا سب سے زیادہ وفادار اور خیر خواہ ہوتا ہے اور جب پاکستان کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کا سب