دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 90
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 90 ” ہمیں سختی سے اس بات کی تاکید کی گئی تھی کہ گالیوں کا جواب دعاؤں سے دینا اور جب کسی کی طرف سے دکھ دیا جائے تو اس کا جواب اس رنگ میں ہو کہ اس کے لئے سکھ کا سامان پیدا کیا جائے۔اسی لئے پچھلے جمعہ کے موقع پر بھی میں نے ایک رنگ میں جماعت کو خصوصاً جماعت کے نوجوانوں کو یہ نصیحت کی تھی کہ یہ تمہارا مقام ہے اسے سمجھو اور کسی کے لئے دکھ کا باعث نہ بنو اور دنگا فساد میں شامل نہ ہو اور جو کچھ خدا نے تمہیں دیا ہے وہ تمہارے لیے تسکین کا بھی باعث ہے، ترقیات کا بھی باعث ہے۔وہ ہے صبر اور دعا کے ساتھ اپنی اپنی زندگی کے لمحات گزارنا۔صبر اور دعا کے ساتھ اپنی زندگی کے لمحات گزار و مگر اہل ربوہ میں سے چند ایک نے اس نصیحت کو غور سے سنا نہیں اور اس پر عمل نہیں کیا اور جو فساد کے حالات جان بوجھ کر اور جیسا کہ قرائن بتاتے ہیں بڑی سوچی سمجھی سکیم اور منصوبہ کے ماتحت بنائے گئے تھے اس کو سمجھے بغیر جوش میں آکر وہ فساد کی کیفیت جس کے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی مخالفت کی اس تدبیر کو کامیاب بنانے میں حصہ دار بن گئے اور فساد کا موجب ہوئے۔29 / مئی کو سٹیشن پر یہ واقعہ ہوا۔اس وقت اس واقعہ کی دو شکلیں دنیا کے سامنے آتی ہیں۔ایک وہ جو انتہائی غلط اور باطل شکل ہے مثلاً ایک روز نامہ نے لکھا کہ پانچ ہزار نے حملہ کر دیا۔مثلاً یہ کہ سوچی سمجھی سکیم کے ماتحت ایسا کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔یہ بالکل غلط ہے اس میں شک نہیں لیکن دوسری شکل یہ ہے کہ کچھ آدمیوں نے بہر حال اپنے مقام سے گر کر اور خدا اور رسول کی اطاعت کو چھوڑتے ہوئے فساد کا جو منصوبہ دشمنوں کی طرف سے بنایا گیا تھا اسے کامیاب کرنے میں شامل ہو گئے۔اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور چونکہ ایساہوا اور اگر دشمن کو آپ کے دس آدمی ایک ہزار نظر آتے ہیں تو اس سے آپ کی براءت نہیں ہوتی یہ تو اللہ تعالی کی شان ہے لیکن آپ کی براءت اس سے نہیں ہوتی جتنے بھی اس جھگڑے میں شامل ہوئے انہوں نے غلطی کی اور سوائے نفرت اور مذمت کے اظہار کے ان کے اس فعل کے خلاف ہم کچھ نہیں کر سکتے نہ امام جماعت احمدیہ اور نہ جماعت احمد یہ۔اس لئے انہوں نے تو غلطی کی اور چونکہ وہ دشمن کی سوچی سمجھی تدبیر تھی اور ایک نہایت بھیانک منصوبہ ملک کو خراب اور تباہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا اب اس میں آپ کا ایک حصہ شامل ہو گیا اور اب ملک کے ایک حصہ میں آگ لگی ہوئی ہے اور اس آگ کو اس رنگ میں ہوا دی جارہی ہے کہ یہ شدت اختیار کرے گی۔یہ آگ جہاں لگی ہے وہاں 1953 ء کی آگ سے زیادہ شدید طور پر لگی ہوئی ہے۔اس وقت حکومت وقت زیادہ تدبر اور زیادہ انصاف سے کام لے رہی