دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 41 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 41

41 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جب احمدیوں نے یہ خبریں پڑھیں تو لاز ما انہیں بہت تشویش ہوئی اور ان کی طبیعتوں میں غم و غصہ پیدا ہوا۔فطرتی بات ہے کہ ایسے موقع پر احمدی احباب اپنے امام کی طرف دیکھتے ہیں اور انہی سے راہنمائی کی درخواست کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے 4 / مئی 1973 ء کو ربوہ میں اس قرارداد پر خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور احباب جماعت کو بعض اصولی ہدایات سے نوازا۔اس وقت احمدیوں کے دلوں میں جس قسم کے جذبات پیدا ہو رہے تھے اس کے متعلق حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے ارشاد فرمایا:۔”۔۔۔۔۔۔غرض جس احمدی دوست نے بھی یہ خبر پڑھی اس کی طبیعت میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا۔چنانچہ دوستوں نے مجھے فون کیے، میرے پاس آدمی بھجوائے، خطوط آئے، تاریں آئیں۔احباب نے خطوط اور تاروں وغیرہ کے ذریعہ اپنے آپ کو رضا کارانہ طور پر خدمت کے لیے پیش کیا کہ اگر قربانی کی ضرورت ہو تو ہم قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔چنانچہ میں نے تمام دوستوں کو جنہوں نے خطوط اور تاروں کے ذریعہ مخلصانہ جذبات کا اظہار کیا اور ان کو بھی جو میرے پاس آئے یہی سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل و فراست عطا فرمائی ہے اور عزت اور احترام کا مقام بخشا ہے۔پس عقل و فراست اور عزت و احترام کا یہ مقام جو خد اتعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں مرحمت فرمایا ہے ، یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم پورے اور صحیح حالات کا علم حاصل کیے بغیر منہ سے کچھ نہ کہیں۔اس قرارداد کے الفاظ کیا ہیں۔قرار داد پاس کرنے والوں میں کون کون شامل ہے۔یہ خبر اخباروں میں نمایاں طور پر کیوں آئی سوائے پاکستان ٹائمز کے جس نے پانچویں صفحے پر شائع کی لیکن چو کٹھا بنا کر گویا اس نے بھی اس کو نمایاں کر دیا۔جب تک اس کے متعلق ہمیں علی وجہ البصیرت کوئی علم نہ ہو اس وقت تک ہم اس پر کوئی تنقید نہیں کر سکتے۔میں نے دوستوں سے کہا ، ہم حقیقت حال کا پتہ کریں گے اور پھر اس کے متعلق بات کریں گے۔“(10) دو حضور نے اس خطبہ جمعہ میں اس قرار داد کے پاس ہونے کے صحیح حالات بیان فرمائے اور جس طرح اخبارات نے اس خبر کو شائع کیا اس کا تجزیہ بیان فرمایا۔حضور نے کشمیر اسمبلی کی قرارداد کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔پس اگر نو یا بارہ آدمیوں نے اس قسم کی قرارداد پاس کر دی تو خدا کی قائم کر دہ جماعت پر اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔اس کے نتیجہ میں جو خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں وہ یہ نہیں کہ جماعت احمد یہ غیر مسلم بن جائے گی۔جس جماعت کو اللہ تعالیٰ مسلمان کہے اسے کوئی نا سمجھ انسان غیر مسلم قرار دے تو کیا فرق پڑتا ہے۔اس لیے ہمیں اس کا فکر نہیں ہمیں فکر ہے تو اس بات کا کہ