دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 42
42 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اگر یہ خرابی خدانخواستہ انتہا تک پہنچ گئی تو اس قسم کے فتنہ و فساد کے نتیجے میں پاکستان قائم نہیں رہے گا۔اس لیے ہماری دعائیں ہیں ہماری کوششیں ہیں اور ہمارے اندر حُب الوطنی کا یہ جذبہ موجزن ہے کہ کسی قسم کا کوئی بھی فتنہ نہ اُٹھے کہ جس سے خود پاکستان کا وجو د خطرے میں پڑ جائے۔آخر فتنہ وفساد یہی ہے نہ کہ کچھ سر کٹیں گے ، کچھ لوگ زخمی ہوں گے۔کون ہوں گے، کیا ہو گا، یہ تو اللہ تعالی ہی جانتا ہے لیکن جب اس قسم کا فساد ہو گا تو دنیا میں ہماری ناک کٹے گی، ہر جگہ پاکستان کی بدنامی ہو گی۔“ (11) حضور نے فرمایا کہ اب جماعت اسلامی اور جماعت احمدیہ کی مخالف جماعتیں حکومت کو دھمکیاں دے رہی ہیں کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے تو 1953ء جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔دراصل یہ لوگ 1953ء کا نام لے کر اپنے نفسوں کو دھو کہ دے رہے ہیں۔ان لوگوں کو اس وقت اتنی ذلت اٹھانی پڑی تھی کہ اگر وہ ذرا بھی سوجھ بوجھ سے کام لیتے تو 53ء کا نام بھی نہ لیتے مگر جماعت احمدیہ نے اس فساد فی الملک میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے عظیم نشان دیکھے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت نے جماعت کو بڑی ترقی عطا فرمائی اس لیے ہمارے حق میں 53ء بڑا مبارک زمانہ ہے جس میں جماعت بڑی تیزی سے ترقی اور رفعتوں میں کہیں سے کہیں جا پہنچی۔حضور نے بیان فرمایا کہ ایسے بھی احمدی ہیں جو 1953ء میں احمدیوں کے گھروں کو آگ لگانے کے لیے نکلا کرتے تھے مگر بعد میں حق کو پہچان کر خود احمدی ہو گئے۔حضور نے خطبہ جمعہ کے آخر میں فرمایا:۔”میر اخیال ہے کہ میں نے ایک احمدی کا جو صحیح مقام ہے وہ آپ کو سمجھا دیا ہے۔آپ دعا کریں اور اس مقام پر مضبوطی سے قائم رہیں کیونکہ ہمارے لئے جو وعدے ہیں اور ہمیں جو بشارتیں ملی ہیں وہ اس شرط کے ساتھ ملی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں جس مقام پر سر فراز فرمایا ہے اس کو بھولنا نہیں اور اس کو بھولنا نہیں اور اس کو چھوڑنا نہیں۔خدا تعالیٰ کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا ہے۔آنحضرت سے پیار کرتے رہنا ہے۔اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھنا۔بے لوث خدمت میں آگے رہنا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنا ہے اور جب دنیا پیار کو کلی طور پر قبول کرنے سے انکار کر دے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام کو یا درکھنا کہ اٹھو نمازیں پڑھیں اور قیامت کا نمونہ دیکھیں“ (12) یہ ایک عجیب بات ہے کہ جب ہم نے جماعت اسلامی کے لیڈر پروفیسر غفور صاحب سے انٹرویو کے دوران آزاد کشمیر اسمبلی کی اس قرار داد کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس کا علم نہیں اور یہ بھی کہا کہ 1973ء میں تو