دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 416
416 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جائے تو اس کو منظور نہیں کیا گیا تھا تو اس کی وجہ کیا تھی۔اس کے جواب میں سابق سپیکر صاحب نے فرمایا کہ میرے سامنے اس قسم کی کوئی بات نہیں آئی تھی۔ریکارڈ کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے سٹیرنگ کمیٹی کو اور پھر پیش کمیٹی کو یہ درخواست کی گئی تھی لیکن اسے منظور نہیں کیا گیا تھا۔اور سپیکر صاحب نے ایوان میں بھی اس درخواست کا ذکر کیا تھا۔اس کے بعد مولوی ظفر انصاری صاحب نے بھی ایک تجویز پیش فرمائی۔اور وہ تجویز یہ تھی ”جناب والا میں ایک چیز یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بعض ممبران بار بار یہ کہتے ہیں کہ بہت دیر ہو رہی ہے۔دیر یقینا ہو رہی ہے لیکن جب ہم نے ایک دفعہ یہ کام شروع کر دیا تو پھر اسے کسی ایسے مرحلہ پر چھوڑنا بہت غلط ہو گا اور مقصد کے لئے مضر ہو گا۔میرے ذہن میں ایک تجویز یہ ہے کہ ہم کسی موضوع پر چار پانچ Questions ایک دفعہ پڑھ دیں۔ان سے اگر یہ کہہ دیں کہ وہ اسے Admit کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔کوئی Explaination نہ لیں۔اگر وہ Admit نہیں کرتے ہم کوشش کریں گے کہ ہم Original 66 Produce کریں۔یہ بات مدِ نظر رہے کہ مولوی ظفر انصاری صاحب سوالات تیار کرنے کے لئے اٹارنی جنرل صاحب کے دست راست کے طور پر کام کر رہے تھے۔یہ تجویز پیش کیوں کی گئی اس کی وجہ ظاہر ہے۔جو سوالات کئے جا رہے تھے ان میں پیش کردہ حوالے اگر کبھی قسمت سے ٹھیک ہو جاتے تھے تو جب پوری عبارت پیش کی جاتی تو یہ صاف نظر آجاتا تھا کہ اس عبارت پر تو یہ اعتراض ہو ہی نہیں سکتا تھا۔نامکمل حوالہ پیش کر کے جو تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہوتی تھی وہ ناکام ہو جاتی تھی۔اس لئے اب بار بار کی خفت سے بچنے کے