دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 415 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 415

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 415 21/ اگست کی کارروائی جب /21 اگست کی کارروائی شروع ہوئی تو سپیکر صاحب نے ممبرانِ اسمبلی کو مطلع کیا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کو اس سپیشل کمیٹی کی بحث کی ریکارڈنگ مہیا کی جائے۔سپیکر نے کہا کہ میں نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ فی الحال ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ممبرانِ اسمبلی نے اس بات کی متفقہ تائید کی کہ اس کارروائی کی ریکارڈنگ جماعت احمدیہ کو بالکل نہیں دینی چاہئے۔محمد حنیف خان صاحب نے کہا کہ آپ نے کہا ہے کہ فی الحال نہیں دی جا سکتی، یہ ریکارڈنگ کبھی بھی نہیں دینی چاہیے۔پروفیسر غفور صاحب نے کہا کہ صرف ریکارڈنگ ہی نہیں بلکہ اس کی کاپی بھی نہیں دینی چاہیے۔حضرت صاحبزادہ مرزامنصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ نے یہ خط 15 / اگست 1974ء کو تحریر فرمایا تھا ، اس سے قبل کارروائی کے آغاز پر 6/ اگست 1974ء کو ایڈیشنل ناظر اعلیٰ محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کی طرف سے بھی ایک خط قومی اسمبلی کے سیکریٹری کو لکھا گیا تھا کہ اس کارروائی کی ریکارڈنگ جماعت احمدیہ کو مہیا کی جائے اس خط میں یہ یقین دلایا گیا تھا کہ اگر یہ ریکارڈنگ مہیا کر دی جائے تو صدر انجمن احمد یہ بھی اس کے مندرجات کو ظاہر نہیں کرے گی۔اب تک جس نہج پر کارروائی چلی تھی اس کو پیش نظر رکھا جائے تو ممبرانِ اسمبلی کے اس انکار کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں۔پھر یہ تجویز سامنے رکھی گئی کہ جماعت احمدیہ کے وفد کو سوالات سے پہلے مطلع کر دیا جائے تا کہ وہ اس کا تحریری جواب جمع کرا سکیں۔اٹارنی جنرل صاحب نے اس کی مخالفت کی اور پوری سپیشل کمیٹی نے اٹارنی جنرل صاحب کی رائے کی متفقہ تائید کی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب ہم نے صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب سے دریافت کیا کہ جب جماعت کی طرف سے یہ درخواست کی گئی کہ ہمیں سوالات سے پہلے سے مطلع کر دیا