دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 417
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 417 لئے مولوی صاحب نے یہ حل تجویز فرمایا تھا کہ جماعت ہر حوالے کے جواب میں صرف یہ کہے کہ یہ حوالہ صحیح ہے یا غلط اور اس کا سیاق و سباق بھی سامنے نہ رکھے۔اس تجویز کے جواب میں سپیکر صاحب نے کہا:۔اگر آپ original produce کریں تو بڑا easy ہوتا ہے۔جب آپ حوالہ دیتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم دیکھیں گے چیک کریں گے۔verify کریں گے۔“ اب یہ بڑی معقول تجویز تھی کہ اگر اصل حوالہ اسی وقت پیش کر دیا جائے تو پھر اتنی دیر اور اور تلاش کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔لیکن مولوی ظفر انصاری صاحب اس طرف آنا ہی نہیں چاہتے تھے۔انہوں نے اس کے جواب میں اپنی سابقہ بات ہی دہرائی اور صرف یہ اضافہ کیا کہ اگر وفد چاہے تو explaination کے لئے سپلیمنٹری وقت لے سکتا ہے۔اس مرحلہ پر سپیکر صاحب نے ایک عجیب بات کی کہ اکثر سوالات تو ہو چکے ہیں اب کچھ سپلیمنٹری سوالات رہ گئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اصل موضوع یہ تھا کہ جو شخص یا گروہ آنحضرت صلی الم کو آخری نبی نہیں مانتا اس کا اسلام میں کیا status ہے یعنی کیا ایسا شخص قانون کی نظر میں مسلمان ہو گا کہ نہیں۔اگر کوئی شخص آنحضرت صلی الک کو آخری نبی نہیں مانتا تو پھر کیا اسے قانونی طور پر مسلمان سمجھنا چاہئیے کہ نہیں۔اس موضوع پر تو ابھی جماعت احمدیہ کے وفد سے کوئی سوالات کئے ہی نہیں گئے تھے۔اور سپیکر صاحب کہہ رہے تھے اکثر سوالات ہو بھی گئے۔جماعت کا وفد تو اس موضوع پر اپنے موقف کا واضح اعلان کر چکا تھا لیکن اسمبلی ممبران اس پر سوالات کرنے سے کترا رہے تھے۔